خیبر پختونخوا حکومت کا توانائی بحران کے حل کیلئے ایشیائی ترقیاتی بنک سے 8 ارب قرض لینے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت کا توانائی بحران کے حل کیلئے ایشیائی ترقیاتی بنک سے 8 ارب قرض لینے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 8 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 22 میگا واٹ کے ان منصوبوں سے 2 لاکھ افراد مستفید ہونگے۔

خیبر پختونخوا حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک سے 8 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے چند سال قبل پن بجلی کے 35 میگا واٹ منصوبوں میں 11 فیصد منصوبے ابھی تک شروع نہیں ہو سکے۔ تف تاہم اب ان منصوبوں کی تکمیل کیلئے پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ ارگنائزیشن (پیڈو) نے اس پروگرام کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے جس کے دوران صوبے کے 6 اضلاع میں پن بجلی پیدا کرنے کے 103 چھوٹے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق نئے مرحلے میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے مالی تعاون سے 500 کلو واٹ سے لیکر ایک میگا واٹ تک کے چھوٹے بجلی گھر قائم کیے جائیں گے جبکہ پہلے مرحلے میں محض 20 کلو واٹ سے لیکر 500 کلو واٹ تک کے چھوٹے بجلی گھر شامل تھے۔
ان دستاویزات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے مرحلے میں شامل بجلی گھروں کی تعمیر پر مجموعی طور پر 9 ارب 22 کروڑ 41 لاکھ روپے کی لاگت آئے گی اور ان سے دو لاکھ 25 ہزار افراد مستفید ہوسکیں گے۔ جبکہ انہیں دسمبر 2027 میں مکمل کر لیا جائے گا۔

نئے مرحلے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر فیصل داوڑ کا کہنا ہے کہ ان چھوٹے منصوبوں سے وہ علاقے مستفید ہو رہے ہیں یا ہوں گے جہاں حکومت کے لیے نیشنل گرڈ کی بجلی پہنچانا قریب قریب ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ ان کی پیدا کردہ بجلی مقامی لوگ “گھریلو استعمال کے لیے چھ روپے سے آٹھ روپے فی یونٹ اور کاروباری مقاصد کے لیے 10 روپے سے 14 روپے فی یونٹ کے حساب سے خرید سکتے ہیں” جو کہ گرڈ کی بجلی سے کہیں سستی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جہاں جہاں پہلے مرحلے میں تعمیر کیے جانے والے بجلی گھر صحیح طریقے سے کام کر رہے ہیں وہاں جنگلات کی کٹائی میں نوے فیصد تک کمی ائی ہے کیونکہ بجلی کی موجودگی میں مقامی لوگوں کو ایندھن اور حرارت کے لیے لکڑی استعمال نہیں کرنا پڑتی۔ “بصورت دیگر آٹھ افراد پر مشتمل ایک گھرانے کو روزانہ ایک من لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے”۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس، پی ٹی آئی پر پابندی کا معاملہ مؤخر

پیڈو کے دیگر اہل کار کہتے ہیں کہ نئے مرحلے کے تحت صوبے میں بہنے والے دریاؤں اور ان کے معاون ندی نالوں پر 103 مقامات کی نشان دہی کر کے وہاں چھوٹے پن بجلی گھر بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے 19منصوبے اپرکوہستان ضلعے میں شروع کیے گئے ہیں جن سے 8 ہزار888 کلو واٹ بجلی پیدا ہوگی۔ اسی طرح اپر چترال ضلعے میں شروع کیے گئے 28 منصوبوں سے 5 ہزار627 کلوواٹ پیدا کی جائے گی جبکہ اپر دیر اور لوئر دیر کے اضلاع میں مجموعی طور پر 36 منصوبوں سے 6 ہزار510 کلوواٹ اور شانگلہ اور بونیر کے اضلاع میں بالترتیب 15 اور تین منصوبوں سے ایک ہزار114 اور 649 کلوواٹ بجلی پیدا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں؛  عمران خان کی فوری رہا ئی، 20 سے زائد برطانوی ارکان پارلیمنٹ نے مطالبہ کر دیا

پیڈو میں کام کرنے والے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں بنائے گئے بجلی گھروں کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام مقامی لوگوں پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذمے لگایا گیا تھا لیکن حقیقت میں لگ بھگ ہر جگہ کسی فرد واحد نے ہی یہ کام سنبھال لیا ہے اور اسے اپنے ذاتی کاروبار کی طرح چلانا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ، پیڈو کے ایک انجینئر کے مطابق، ان بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی بجلی کے بل بھی وہی فرد واحد وصول کر کے اپنی جیب میں ڈال لیتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کے پاس تجربہ کار عملہ دستیاب نہیں ہوتا اس لیے وہ بجلی گھر کی مشینری میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو فوری طور پر دور نہیں کر سکتے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی لوگ کئی کئی روز بجلی سے محروم رہتے ہیں۔ ان مسائل کے پیش نظر وہ کہتے ہیں کہ “پیڈو نے فیصلہ کیا ہے کہ نئے مرحلے میں بنائے جانے والے بجلی گھروں کو وہ خود ہی چلائے گی”۔

تاہم کچھ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیڈو کے پاس اتنا عملہ نہیں کہ وہ ان تمام منصوبوں کی ٹھیک طرح سے نگرانی کر سکے۔ عملے کی کمی کی وجہ سے اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ پہلے مرحلے میں قائم کیے گئے کتنے بجلی گھر ٹھیک ٹھاک چل رہے ہیں اور ان میں کس بجلی گھر سے کتنی آمدن ہو رہی ہے۔ مزید برآں، ان ذرائع کے مطابق، چھوٹے پن بجلی گھر اکثر دوردراز علاقوں میں لگائے جا رہے ہیں جہاں ان کی نگرانی اور مرمت کے لیے پیڈو کے صوبائی یا ضلعی دفاتر سے عملہ بھیجنے کے لیے کافی رقم درکار ہوتی ہے جو اس وقت پیڈو کے پاس موجود نہیں۔ “کچھ علاقے تو ایسے ہیں جو برفباری کے باعث ہفتوں باقی صوبے سے کٹے رہتے ہیں اس لیے پیڈو کے لیے وہاں بنے بجلی گھروں میں پیدا ہونے والی ممکنہ خرابیوں کو فوری طور پر درست کرنا کبھی ممکن نہیں ہوگا”۔

Related Articles