کے پی کے حکومت نے 2009میں یونیورسٹیز کیلئے خریدی گئی زمین کےبقایا جات کی ادائیگی سے معذرت کرلی

کے پی کے حکومت نے 2009میں یونیورسٹیز کیلئے خریدی گئی  زمین کےبقایا جات کی ادائیگی سے معذرت کرلی

خیبر پختونخوا حکومت نے 2009 مین پانچ ہزار کنال زمین خریدی، فنڈز کی کمی کے باعث اراضی کو بیچنے کا فیصلہ کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے بقایا جات اداکرنے سے معذرت کرلی۔

خیبر پختونخوا حکومت نے 2009 میں یونیورسٹیز کیلئے خریدی گئی اراضی کو بیچنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بقایا جات کی ادائیگی سے معذرت کردی۔ حکومت کی جانب سے 2009میں پانچ ہزار کنال زمین خریدی گئی تھی،جس میں ولی خان یونیورسٹی, باچا خان میڈیکل کالج اور امیرمحمد خان زرعی یونیورسٹی کے لئے پانچ ہزار کنال زمین 2800 فی مرلے کے حساب سے خریدی گئی تھی جس میں 2ہزار کنال زمین ولی خان یونیورسٹی 1ہزار کنال باچا خان میڈیکل کالج اور دو ہزار کنال امیر محمد خان کیمپس زرعی یونیورسٹی کے لئے خریدی گئی تھی تاہم بعد میں زرعی یونیورسٹی کی اراضی سے چارسو کنال انجینئرنگ یونیورسٹی مردان کیمپس کو بھی دی گئی،

تاہم اراضی مالکان کی جانب سے کم قیمت لگانے پر کورٹ میں کیس دائر کیا گیا تاہم اراضی کی قیمت 35ہزار فی مرلہ مقرر کیا گیا پھر75 ہزارروپے فی مرلہ اوآخر میں پشاور ہائیکورٹ نے زمین کی قیمت 1لاکھ24ہزار فی مرلہ مقرر کرد ی تھی تاہم پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور سپریم کورٹ نے بھی ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہو صوبائی حکومت کو پانچ ہزار کنال اراضی کی پیسے ادا کرنے کے احکامات جاری کئے گئی تاہم خیبر پختونخوا حکومت نے مالی بحران کے باعث یونیورسٹیوں کے لے خریدی گئی اراضی جن کی قیمت 20ارب سے زائد بنتی ہے کو حل کرنے کے لئے کابینہ اجلاس میں خصوصی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو وزراء اور سیکرٹری پرمشتمل ہوجبکہ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی بریگیڈیر ریٹائرڈ مصدق ملک کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا،

یہ بھی پڑھیں: جہاں پر رکاوٹ ہو گی وہیں دھرنا ہوگا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

کمیٹی میں بطور ممبران وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان، وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم فیصل ترکئی، وزیر صحت سید قاسم علی شاہ،وزیر خوارک، وزیر زراعت، سیکرٹری زراعت، سیکرٹری محکمہ صحت، سیکرٹری اعلیٰ تعلیم، سیکرٹری محکمہ ابتدائی وثانوی تعلیم، سیکرٹری لاء، سینئر ممبر بورڈ اف ریونیو اور ایڈوکیٹ جنرل کو شامل کیا گیا ہے کمیٹی کی جانب سے اب تک دو سے تین اجلاس کئے گئے ہیں جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چونکہ صوبائی حکومت کے پاس اتنے زیادہ فنڈز موجود نہیں ہیں کہ پیسوں کی ادائیگی کیلئے متبادل راستہ نکالنے کے بجائے مذکورہ جامعات کو اپنے اراضی سے اتنی اراضی فروخت کرنے کی سفارش کر دی ہے کہ جو بقایا جات ہیں ان کو ادا کئے جا سکیں یا پھر ان اراضی مالکان کو مارکیٹ قیمت پر زمین خریدنے کی آفر کی جائے یا اگر اراضی مالکان زمین لینے میں عدم دلچسپی ظاہر کرتے ہیں تو پھر زمین کی نیلامی کی جائے تاہم کمیٹی کے اس فیصلے سے بیشتر وائس چانسلر متفق نہیں ہیں اور کافی پریشان بھی ہیں اور ایڈوکیٹ جنرل کو اس مسئلہ کو قانون کے مطابق دیکھنے کی درخواست بھی کی ہے تاہم کمیٹی نے زمین کو فوری طور پر فروخت کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم اراضی کو فروخت کرنے کا فیصلہ سنڈیکٹ کا اختیار ہے اور یہ معاملہ سنڈیکٹ کو ہی ارسال کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: تباہ ہوتی سیاسی صورتحال کافائدہ بانی پی ٹی آئی کو ہو رہا ہے: شیخ رشیداحمد

ذرائع کے مطابق زرعی یونیورسٹی کی اراضی کے 7 ارب روپے بقایاجات ہیں اس طرح ولی خان یونیورسٹی، باچا خان میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی کے ذمہ بھی اراضی کی مد میں اربوں روپے بقایاجات ہیں جن میں سے کچھ رقم صوبائی حکومت ادا کر چکی ہے۔ اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے آزاد ڈیجٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی حکومت مالی بحران کا شکار ہے اور اراضی سے متعلق رقم کی ادائیگی کے لئے کابینہ باقاعدہ طور پر کمیٹی بنا چکی ہے، کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ مذکورہ جامعات کے وائس چانسلرز اراضی کی مد میں رقم کی ادائیگی کے لئے ماسٹر پلان ترتیب دے اور صرف اتنی اراضی فروخت کی جائے جتنے بقایاجات باقی ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اراضی فروخت کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا ہے کہ چونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اگر ادائیگی وقت پر نہیں کی جائے گی تو روزانہ کی بنیاد پر اس پر جرمانہ بھی دینا پڑے گا اور مذکورہ زمین کی مد میں روازنہ دس سے 15لاکھ روپے جرمانہ عائد ہو رہا ہے اس لئے فوری ادائیگی کے لئے اراضی کا کچھ حصہ فروخت کرنے کی سفارش کمیٹی نے کی ہے۔

Related Articles