طوفانی بارشوں نے ملک بھر میں تباہی مچادی ، 14 افراد جاں بحق ، درجنوں زخمی

طوفانی بارشوں  نے ملک بھر میں تباہی مچادی ، 14 افراد جاں بحق ، درجنوں زخمی

طوفانی بارشوں نے ملک بھر میں تباہی برپا کردی جہاں بارشوں اور سیلابی صورتحال سے کم از کم 14 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

خیبرپختونخوا میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تیز بارشوں، آندھی اور فلش فلڈ کے باعث پیش آنے والے مختلف حادثات میں اب تک 7 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہو گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سوات میں سیف اللہ جھیل میں کشتی ڈوب گئی جس سے 6 سیاح دم توڑ گئے جن کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ  ایک لاپتہ خاتون کی تلاش جاری ہے، جاں بحق تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔

اٹک میں دیوار اور چھت گرنے کے واقعات میں 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنےسے2 بچے جاں بحق اور4زخمی ہو گئے، دیربالا میں آسمانی بجلی گرنے سے مدرسے کی 20 طالبات زخمی ہوگئیں۔

ژوب میں بارش کے دوران چھتیں گرنے سے خاتون اور ایک بچہ جاں بحق جبکہ گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے شہری جان کی بازی ہار گیا۔

ایبٹ آباد میں برساتی نالے میں گاڑی بہنے سے 3 افراد زخمی ہو گئے، مردان میں طوفانی بارش سےسائن بورڈاوردیوارگرنے سے2بچوں سمیت 3افراد زخمی ہوگئے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلا دھار بارش سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا، لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز بارش ہوئی ، ٹھنڈی ہواؤں کا راج رہا، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی۔

پنجاب کے شہروں اٹک، پنڈی بھٹیاں، منڈی بہاؤالدین ،سرگودھا، بھیرہ، حافظ آباد، قصور،مرید کے میں بھی بادل خوب برسے، گجرات میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، ہری پور میں تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، ایبٹ آباد میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کے بعد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں، بارش کا پانی دکانوں میں داخل ہو گیا۔

خضدار، ژوب ، کوہلو میں بھی برکھا رت برسی، صوابی میں بارش اور ژالہ باری ہوئی، کراچی میں بھی بادل چھا گئے، نیو کراچی، گلشن معمار، گڈاپ میں بوندا باندی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں :موسمیاتی تبدیلیاں! پاکستان 65 سالہ تاریخ میں مسلسل دوسرے سال شدید گرمی کی لپیٹ میں

گلگت بلتستان ریجن میں دیامر کے نواحی گاؤں گیس بالا، پائین اور نیاٹ ویلی میں مون سون کی بارشیں شروع ہونے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی، رابط سڑک متاثر ہوئی اور سیلابی ریلہ گھروں میں داخل ہو گیا۔

حکام کے مطابق سیلاب سے لوگوں کے فصلیں، باغات اور زرعی اراضی زمینیں شدید متاثر ہوئی ہیں، نیاٹ ویلی میں بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

دوسری جانب این ڈی ایم اے نے مون سون کے دوران ممکنہ خطرات سے متعلق الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ موجود ہے۔

این ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی مشینری تیار رکھنے، نشیبی علاقوں میں رہنے والے افراد کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور دریاؤں کے کناروں پر آباد شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

editor

Related Articles