فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی -15 میں وسیع پیمانے پر پلاٹوں کی بوگس الاٹمنٹس اور بدعنوانی میں ملوث سابق ممبر سی ڈی اے افنان عالم اور پراپرٹی ڈیلر جبران کو گرفتار کیا گیا ہے۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے اپنے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل کے ذریعے ایک کریک ڈاؤن کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر زمینوں کے فراڈ اور بدعنوانی میں ملوث اہم افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ آپریشن کا مرکز اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں حاصل کی گئی 624 کنال اور 8 مرلہ اراضی کے لیے جعلی رپورٹیں تیار کرنا ہے۔ ایف آئی اے اینٹی منی لانڈرنگ سرکل نے مقدمہ درج کر کے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سابق ممبر اسٹیٹ محمد افنان عالم اور جبران نامی پراپرٹی ڈیلر کے ساتھ فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا ہے افنان عالم پر اسلام آباد کے سیکٹرآئی پنردہ میں 62 پلاٹ غیر مستحق افراد کو بدعنوانی کے ذریعے غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کا الزام ہے۔ ملزم نے دیگر ملوث عناصر کے ساتھ مل کر ایک ارب روپے کا مالی نقصان پہنچایا۔ افنان عالم کو اس سے قبل کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد نے بھی ایک مقدمہ درج کیا تھا، جس میں ان کے بدعنوان سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ پنجاب کا جیلوں میں نوعمر اسیران کے لیے ہنرمند اسیر پروگرام کا آغاز
ایف آئی کریک ڈاؤن میں انکشاف ہوا کہ افنان عالم نے اپنے دور میں اسلام آباد کی وسیع اراضی کے لیے جعلی رپورٹس تیار کرنے میں سہولت فراہم کی اور انہوں نے بدعنوانی کے ذریعے حاصل کیے گئے فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اور اپنی اہلیہ کے نام پر غیر قانونی اثاثے بنائے اور ناجائز فنڈز سے اسلام آباد کے سیکٹر C-14 میں جائیدادیں حاصل کیں۔ ایف آئی اے نے گرفتاریوں کے بعد مکمل تفتیش شروع کر دی ہے۔ گرفتار ملزمان افنان عالم اور جبران اب حراست میں ہیں اور ایف آئی اے نے ان سے تفصیلی پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔
ایف آئی اے کیس میں ملوث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے اثاثوں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت حسد نہ کرے، عوام کو ریلیف دے، عظمیٰ بخاری کا بڑا بیان آگیا
ایف آئی اے ترجمان نے بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور ذاتی فائدے کے لیے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کرنے والوں کا احتساب کرنے کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامع قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائیگا اور تحقیقات میں ملوث تمام افراد تک توسیع کی جائے گی.. یہ آپریشن ایف آئی اے کی بدعنوانی اور مالیاتی جرائم سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں کی سالمیت کو برقرار رکھنا اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس سے قبل گرفتار سی ڈی اے افسر کے چھوٹے بھائی پر 2020 میں اربوں روپے کے سکھر حیدرآباد موٹروے اسکینڈل میں فرد جرم عائد کی گئی تھی، بعد ازاں ڈی سی نوشہروفیروز تاشفین عالم ایف آئی اے اور نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خوف سے ملک سے فرار ہوگئے۔ نیب کی تحقیقات کے مطابق تاشفین نے M-6 موٹروے کے لیے زمین کے حصول میں 3 ارب روپے کا غبن کیا۔ تاشفین کو بعد ازاں انٹرپول کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

