پاکستان کی آٹو موبائل مارکیٹ اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے سے ایک انتہائی بڑی اور شاندار پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایم جی موٹر پاکستان نے مقامی مارکیٹ میں اپنی نئی اور سستی الیکٹرک ہیچ بیک ایم جی 4 ای وی اربن باقاعدہ طور پر متعارف کرا دی ہے، جو اپنے جدید ترین فیچرز، فیوچرسٹک ڈیزائن اور زبردست رینج کے باعث مارکیٹ میں موجود روایتی ایندھن (پیٹرول اور ہائبرڈ) گاڑیوں کو سخت ٹکر دینے کے لیے تیار ہے۔
اس شاندار الیکٹرک ہیچ بیک کو لاہور میں منعقدہ ایک پروقار اور بڑی تقریب کے دوران لانچ کیا گیا، جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے نامور آٹو ڈیلرز، میڈیا نمائندگان، آٹو بلاگرز اور آٹو موٹیو انڈسٹری سے وابستہ اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کمپنی کی جانب سے پاکستانی مارکیٹ کے لیے اس گاڑی کی آفیشل قیمت 69 لاکھ 49 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے، جو اس کے فیچرز کے لحاظ سے انتہائی مسابقتی مانی جا رہی ہے۔
پاور ٹرین، بیٹری اور چارجنگ
ایم جی کی اس نئی الیکٹرک گاڑی کے تکنیکی اور مکینیکل صلاحیت کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ گاڑی میں 43 کلوواٹ آور (43 kWh) کی جدید اور طاقتور لیتھیم آئن بیٹری دی گئی ہے۔
موٹر اور ڈرائیو ٹرین
یہ گاڑی فرنٹ وہیل ڈرائیو الیکٹرک موٹر سے لیس ہے، جو گاڑی کو بہترین کنٹرول فراہم کرتی ہے۔ یہ الیکٹرک موٹر 110 کلوواٹ (110 kW) کی زیادہ سے زیادہ پاور اور 250 نیوٹن میٹر (250 Nm) کا شاندار ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے گاڑی کو فوری پک اپ ملتا ہے۔
بین الاقوامی معیار کے تحت یہ گاڑی ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر 316 کلومیٹر تک کا فاصلہ باآسانی طے کر سکتی ہے، جو شہر کے اندر روزمرہ کے استعمال کے لیے بہترین ہے۔
ڈی سی فاسٹ چارجنگ
یہ گاڑی ڈی سی فاسٹ چارجنگ ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ فاسٹ چارجر کے ذریعے گاڑی کی بیٹری کو 10 فیصد سے 80 فیصد تک محض 28 منٹ میں چارج کیا جا سکتا ہے۔
انٹیریئر، انفوٹینمنٹ اور پریمیم فیچرز
گاڑی کے اندرونی حصے (انٹیریئر) کو جدید ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے، جس میں درج ذیل پریمیم فیچرز شامل ہیں
بڑی ٹچ اسکرین
ڈیش بورڈ کے مرکز میں 12.8 انچ کی بڑی اور انتہائی حساس انفوٹینمنٹ ٹچ اسکرین دی گئی ہے۔
وائرلیس کنیکٹیویٹی
اسمارٹ فون صارفین کے لیے وائرلیس ایپل کار پلے اور اینڈرائیڈ آٹو کی سپورٹ موجود ہے۔
آرام دہ سیٹیں
سردیوں کے موسم میں آرام دہ سفر کے لیے فرنٹ پر ہیٹڈ سیٹس فراہم کی گئی ہیں۔
وائرلیس چارجنگ
گاڑی کے کیبن میں موبائل فونز کے لیے وائرلیس چارجنگ پیڈ بھی لگایا گیا ہے۔
عالمی معیار کے حفاظتی فیچرز
مسافروں اور ڈرائیور کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایم جی نے اس گاڑی میں جدید ڈرائیور اسسٹنس سسٹمز شامل کیے ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے
اس گاڑی میں ہائی ویز پر خودکار طور پر اگلی گاڑی کی رفتار کے مطابق فاصلہ برقرار رکھنے کا نظام رکھا گیا ہے جبکہ کسی بھی امکانی حادثے یا رکاوٹ کی صورت میں گاڑی کا خودکار بریک لگا دینا ہے۔
بلائنڈ اسپاٹ ڈیٹیکشن
سائیڈ مررز میں نہ دکھائی دینے والی گاڑیوں یا بائیکس کے بارے میں ڈرائیور کو الرٹ کرنا اس کے علاوہ گاڑی کو سڑک پر بنی ہوئی سفید لائنوں (لین) کے اندر رکھنے میں مدد فراہم کرنا۔
540 ڈگری ایچ ڈی کیمرا سسٹم
گاڑی کے ارد گرد اور نیچے کے حصے کا مکمل ایچ ڈی ویو فراہم کرنے والا پریمیم کیمرا، جو پارکنگ اور تنگ گلیوں میں ڈرائیونگ کو انتہائی آسان بناتا ہے۔
پاکستان میں پیٹرول کی قیمتیں اور الیکٹرک گاڑیوں کا ابھرتا ہوا رجحان
پاکستان میں اس نئی الیکٹرک ہیچ بیک کا لانچ ہونا ایک ایسے وقت میں انتہائی اہم ہے جب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، جس کی وجہ سے تنخواہ دار اور کاروباری طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔
پاکستانی حکومت نے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے اور مہنگے پیٹرولیم امپورٹ بل پر قابو پانے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز میں واضح چھوٹ دے رکھی ہے۔
ایم جی موٹر نے اس سے قبل پاکستان میں اپنی پریمیم الیکٹرک ایس یو وی متعارف کرائی تھی، جسے کافی پسند کیا گیا تھا، لیکن اس کی قیمت عام خریدار کی پہنچ سے دور تھی۔
اب 70 لاکھ روپے سے کم کی رینج میں اس الیکٹرک ہیچ بیک کو لا کر کمپنی نے براہِ راست ان صارفین کو ہدف بنایا ہے جو پیٹرول کے بھاری اخراجات سے تنگ آ چکے ہیں اور ایک ایسی فیملی گاڑی چاہتے ہیں جو سستی ہونے کے ساتھ ساتھ جدید ترین سیفٹی فیچرز سے بھی لیس ہو۔
لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں چارجنگ اسٹیشنز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کی وجہ سے اب الیکٹرک گاڑیوں کو ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔