تھرپارکر میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ: بنیادی وجوہات میں اہم انکشافات سامنے آ گئے

تھرپارکر میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ: بنیادی وجوہات میں اہم انکشافات سامنے آ گئے

سندھ کے صحرا تھر پارکر میں دن بہ دن خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ، مہنگائی ، غربت ، ہندو برادری مین کزن میرج کا نہ ہونا اور دیگر وجوہات کی وجہ سے خودکشیوں کی واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تھرپارکر کے مختلف علاقوں ، ڈیپلو ، چھاچھرو، ڈاہلی، مٹھی، سمیت تھر کے کئی گاؤں میں خودکشیوں کے واقعات میں حالیہ برسوں میں مسلسل اضافہ ہورہے ہے۔ ذرائع سے موصول ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2022 میں تھرپارکر میں 129 جبکہ 2023 میں 125 ، 2024 میں 92 افراد نے خودکشیاں کی، جبکہ ان میں 2022 میں 58 مردوں نے خودکشیاں کی اور 2023 میں 61 اور 2024 میں 48 مردوں نے خودکشیاں کرکے اپنی جان گنوائیں۔ جبکہ خواتین کی تعداد کی بات کی جائے تو کچھ یوں ہے اس میں 2022 میں 72 ، اور 2024 میں 49 خواتین نے خودکشیاں کی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلی نے سندھ میں شدید بارشوں کے پیشِ نظر حکمتِ عملی مرتب کر لی

اس سلسلے میں سول ہسپتال مٹھی کے ڈاکٹر جئے کمار نے بتایا کہ تھرپارکر ایک بڑی اراضی پر مشتمل صحرا ہے جہاں پر خودکشیوں کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بنیادی وجہ غربت اور روزگار کے وسائل نہ ہونا ہے ، جبکہ دوسری جانب سے ہندو برادری میں اپنے کزن کے ساتھ شادیاں نہ ہونا ، سوشل میڈیا کا استعمال اور دیگر وجوہات بھی شامل ہیں ، جبکہ کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہسپتال یا پولیس تک نہیں پہنچ پاتے اس کی بنیادی وجہ سے یہ کے تھر کے سینکڑوں ایسے گاؤں ہیں جو بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ، جہاں پر آپ کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک جانے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے ۔ تھر کے زیادہ ترگاؤں میں کچے روڈ ذہے جہاں فور ویل گاڑیاں چلتی ہیں اور وہ کئی گھنٹے کا سفر طےکرکے پھر اسی جگہ پہنچتے ہیں ، اگر کسی کو فور ویل گاڑی کرائے پر کرانی ہو اور وہ پچاس کلو میٹر سفر کرکے پہنچانا ہو تو اس سے 6, سے 7 ہزار روپے دینے پڑہتے ہیں ، جو وہاں کہ لوگ افورڈ نہیں کرسکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی اداروں کو ٹھیکہ پر دینے کی تیاریاں مکمل

خودکشیوں میں 2022 میں26 مسلم لوگوں نے اپنی زندگیاں ختم اور 2023 میں 34 اور جبکہ 2024 میں 17 افراد نے اپنی زندگیاں گنوائی، اس طرح ہندو لوگوں کی تعداد سرکاری اعداد وہ شمار کےمطابق 2022 میں 104، 2023 میں 96 اور 2024 میں 77 افراد نے خودکشیاں کی ۔ تھر میں بھوک افلاس ، روزگار کے مسائل نہ ہونا ، تھر میں زراعت نہ ہونا بھی خود کشی کیا بنیادی وجوہات میں شامل ہے ۔ ایک ڈاکٹر نے جو چھاچھرو کی ایک ہسپتال سے تعلق رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ خودکشیوں میں اضافہ ہوا ہے لوگوں کے پاس روزگار نہیں ہے ، اپنی کزن کے ساتھ شادیاں نہ ہونا اور دیگر وجوہات بھی شامل ہیں ۔ جبکہ اس نے بتایا کہ کہیں نہ کہیں مختلف قسم کی بلیک میلنگ کی وجہ سے بھی خودکشیاں کی جاتی ہے اور کئیں ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جو رپورٹ نہیں ہوتے ۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی اداروں کو ٹھیکہ پر دینے کی تیاریاں مکمل

سماجی رکن پنھل ساریو نے بتایا کہ تھرپارکر میں تشویش ناک واقعات ہورہےہیں ، اور اس کے روک تھام کے لیے ہم سب کو کام کرنا ہے ، تھر کے لوگ روزگار سے محروم ہیں اور وہ دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں ۔ سندھ حکومت تھرکی عوام کے لیے خصوصی بندوبست کرے ۔ تھرپارکر میں کچھ ہی عرصے میں خودکشیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ، جس کی بنیادی وجہ تھر میں روزگار نہ ہونا ، سوشل میڈیا کا استعمال، تعلیم کی کمی اور دیگر وجوہات شامل ہیں ۔ خودکشیوں کے واقعات کے روک تھام کے لیے نوجوانوں میں آگہی دی جائے اس طرح کے پروگرام کئے جائیں جس سے ان میں تعلیم کی اہمیت اور روزگار جیسے وسائل کے موضوعات شامل ہوں۔

author

Related Articles