پنجاب بھر کے اسکولز انتظامیہ خبردار ، صوبائی حکومت کا بڑا فیصلہ

پنجاب بھر کے اسکولز انتظامیہ خبردار ، صوبائی حکومت کا بڑا فیصلہ

گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہوتے ہی سمر کیمپوں کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا تاہم اس بار پنجاب حکومت نے لاہور ، راولپنڈی سمیت پنجاب بھر کے اسکولز کی انتظامیہ کو خبردار کردیا ہے اور سمر کیمپ کی فیس لی تو سکول بند ہوگا ۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ نجی اسکول اپنی مرضی نہیں چلا سکیں گے۔ اگر کوئی ادارہ سمر کیمپ کے مقررہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،  یہی وجہ ہے کہ والدین، طلبہ اور اسکول انتظامیہ کی نظریں اب محکمہ تعلیم کے اگلے اقدامات پر مرکوز ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے نجی اسکولوں میں سمر کیمپ سے متعلق ایس او پیز کی خلاف ورزی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومتی احکامات پر مکمل عملدرآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی فعال نگرانی کی جائے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

وزیر تعلیم نے سمر کیمپ کے لیے باقاعدہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے ، ان کے مطابق نجی اسکول صرف پیر سے جمعرات تک صبح 7 بجے سے 10 بجے تک سمر کیمپ منعقد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ اجازت صرف ایک ماہ کے محدود عرصے کے لیے دی گئی ہے، مقررہ دنوں یا اوقات سے تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی۔

رانا سکندر حیات نے نجی اسکول انتظامیہ کو خبردار کیا کہ والدین کی تحریری رضامندی کے بغیر کسی بھی طالب علم کو سمر کیمپ میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اسکول مالکان بچوں یا والدین پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنے کے مجاز نہیں ہیں ، سمر کیمپ میں شرکت مکمل طور پر رضاکارانہ ہوگی اور والدین کی مرضی کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

صوبائی وزیر نے والدین سے اپیل کی ہے کہ اگر کوئی اسکول حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو فوری طور پر سرکاری شکایت سیل سے رابطہ کیا جائے،  موصول ہونے والی ہر شکایت کا جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ادارے کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں : کیمبرج سسٹم سے منسلک سکولوں کے طلبہ کیلئے اہم خبر آگئی

واضح رہے کہ پجاب میں مئی اور جون کے دوران شدید گرمی اور ہیٹ ویومعمول بن چکی ہے اور اسی وجہ سے حکومت ہر سال تعلیمی اداروں میں جلد گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان کرتی ہے تاکہ بچوں کو شدید موسم کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

تاہم گزشتہ چند برسوں سے یہ رجحان سامنے آیا کہ کئی نجی اسکول تعطیلات کے باوجود سمر کیمپ کے نام پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں بعض والدین کی جانب سے اضافی فیسوں اور غیر ضروری حاضری کے حوالے سے شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

تعلیمی اور طبی ماہرین کے مطابق صبح 7 سے 10 بجے تک کا وقت نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ شروع ہو جاتا ہے۔

شدید گرمی، لوڈشیڈنگ اور ہیٹ ویو کے دوران بچوں کا زیادہ دیر اسکولوں میں قیام صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،  ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر موسمی بیماریوں کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں،  یہی وجہ ہے کہ حکومت نے سمر کیمپ کے اوقات کو محدود رکھا ہے۔

پنجاب حکومت کا یہ اقدام واضح کرتا ہے کہ بچوں کی صحت، تحفظ اور والدین کے حقوق کو ترجیح دی جا رہی ہے،  اب دیکھنا یہ ہے کہ  اسکول اس پالیسی پر کس حد تک عمل کرتے ہیں اور محکمہ تعلیم اس کے نفاذ کو کس قدر مؤثر بناتا ہے۔

editor

Related Articles