عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو ڈی چوک سے گرفتار کرلیا گیا

عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور عظمیٰ خان کو ڈی چوک سے گرفتار کرلیا گیا

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈی چوک سے پولیس نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے  کارکنان سمیت بانی پی ٹی آئی کی دو بہنوں کو بھی گرفتار کرلیا۔

دونوں بہنوں کو گرفتاری کے بعد تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کردیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ڈی چوک میں احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے اور مختلف مقامات پر پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں میں تصادم دیکھنے میں آیا ہے۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیش نظر کڑے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جڑواں شہروں میں دفعہ 144 نافذ ہے، راولپنڈی اسلام آباد کو ملانے والے تمام راستے کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیے گئے ہیں۔

دارالحکومت میں موبائل فون سروس بند  ہے، میٹرو بس سروس بھی تاحکمِ ثانی معطل کردی گئی ہے، موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے ،راولپنڈی، مری روڈ اور اطراف کے بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں، راستوں کی بندش کے باعث شہر کے تمام نجی اور سرکاری سکولوں میں تعطیل کی گئی، رکاوٹوں کے باعث مسافروں اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کریں گے

ادھر وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں اسلام آباد احتجاج کیلئے قافلہ پشاور ٹول پلازہ پہنچ گیا ، ہزاروں کارکنوں نے وزیر اعلیٰ کا ٹول پلازہ پر استقبال کیا، قافلے میں ایمبولنسز، فائربریگیڈ کی گاڑیاں شامل ہیں جبکہ رکاوٹوں کو ہٹانے کےلیے کرینیں اور ایکسکیویٹر بھی موجود ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی آج ہونے والے احتجاج میں ہر صورت ڈی چوک پہنچنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اپنے بیان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے احکامات پر ہر صورت عمل کیا جائےگا۔

ترجمان اسلام آباد پولیس نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے، شہری کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ نہ بنیں، پولیس عوام کی جان و مال کےتحفظ کے لیے ہروقت مصروف عمل ہے، امن و امان میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

 

editor

Related Articles