بڑی پیش رفت، ایران نے پاکستان کی ثالثی میں امریکا کو نیا ’امن فارمولا‘ پیش کر دیا

بڑی پیش رفت، ایران نے پاکستان کی ثالثی میں امریکا کو نیا ’امن فارمولا‘ پیش کر دیا

ایران اور امریکا کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی اور سفارتی تعطل کے خاتمے کی ایک نئی امید پیدا ہو گئی ہے۔ تہران نے واشنگٹن کو ایک نئی اور غیر معمولی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا بنیادی مقصد اسٹرٹیجک طور پر اہم ترین تجارتی راستے ’آبنائے ہرمز‘ کو دوبارہ کھولنا اور خطے میں جاری جنگی صورتحال کا مستقل خاتمہ کرنا ہے۔

ایرانی تجویز کے اہم نکات

ایرانی حکام کی جانب سے دی گئی اس تجویز میں ایک منفرد ’ٹو ٹریک‘ پالیسی اپنائی گئی ہے۔ اس فارمولے کے تحت ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کر کے بحری تجارت بحال کی جائے اور جنگ بندی کا معاہدہ طے پائے، تاہم حساس نوعیت کے ’جوہری مذاکرات‘ کو فی الحال اس معاہدے سے الگ رکھ کر مؤخر کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات: ریڈ زون میں دفاتر کل تیسرے روز بھی بند رہیں گے

امریکی میڈیا رپورٹس کا دعویٰ ہے کہ ایرانی قیادت اس وقت داخلی سطح پر شدید تقسیم کا شکار ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکا کو کس حد تک رعایتیں دی جائیں۔ اسی وجہ سے ایران نے ’پہلے امن، پھر مذاکرات‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے تاکہ ایک تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکے۔

وائٹ ہاؤس کا ردعمل اور ٹرمپ کا اہم اجلاس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بروز پیر اپنے اعلیٰ سطح کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ ایک اہم ترین اجلاس کی صدارت کریں گے۔

اس اجلاس میں ایرانی تجویز کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں اس بات پر بحث ہوگی کہ آیا جوہری معاملے کو الگ رکھ کر کوئی عبوری معاہدہ کرنا امریکا کے مفاد میں ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی تین ملکی سفارتی دورے کے دوسرے مرحلے میں عمان پہنچ گئے

واضح رہے کہ اگر صدر ٹرمپ اس تجویز کو قبول کر لیتے ہیں تو ایران پر سے وہ دباؤ کم ہو جائے گا جو اس کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا خاتمہ ایران کو معاشی ریلیف فراہم کرے گا، جس سے جوہری پروگرام پر اس کا مؤقف مزید سخت ہو سکتا ہے۔

ایران اور امریکا کے تعلقات میں حالیہ تناؤ اس وقت عروج پر پہنچا جب ایران نے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش کی دھمکی دی اور عملی طور پر ناکہ بندی کی کوششیں کیں۔

Related Articles