لیسکو میں ٹرانسفارمرز کا بحران، بجلی کے نظام پر دباؤ، طویل لوڈشیڈنگ کا خطرہ

لیسکو میں ٹرانسفارمرز کا بحران، بجلی کے نظام پر دباؤ، طویل لوڈشیڈنگ کا خطرہ

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے زیرِ انتظام علاقوں میں ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی شدید قلت اور ان کے جلنے کی شرح میں غیر معمولی اضافے کے باعث بجلی کی تقسیم کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے لاہور سمیت مختلف اضلاع میں کئی کئی گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز کی عدم دستیابی اور تکنیکی خرابیوں کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لیسکو کے اسٹورز میں خاص طور پر 200 کے وی اے کے ٹرانسفارمرز کی کمی شدت اختیار کر چکی ہے، جبکہ دوسری طرف اوور لوڈنگ کے باعث ٹرانسفارمرز کے جلنے اور خراب ہونے کی شرح نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لیسکو میں معاہدے کے برعکس سولر صارفین کے کنکشنز کی بلنگ، ریکارڈ طلب

اس سنگین صورتحال کے نتیجے میں لیسکو ریجن کے متعدد رہائشی اور تجارتی علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہنا معمول بن چکا ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ کاروباری طبقہ بھی شدید معاشی و ذہنی مشکلات کا شکار ہے۔

لیسکو کا ہنگامی مراسلہ اور لوڈ بیلنسنگ کی ہدایات

بحران کی سنگینی کو تسلیم کرتے ہوئے لیسکو انتظامیہ کی جانب سے ایک باقاعدہ مراسلہ جاری کیا گیا ہے۔ اس سرکاری مراسلے میں اعتراف کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ٹرانسفارمرز کے خراب ہونے کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

لیسکو چیف کی ہدایت پر تمام فیلڈ فارمیشنز اور متعلقہ آپریشنل دفاتر کو ہنگامی احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ فیڈرز اور ٹرانسفارمرز پر بجلی کے لوڈ کو فوری طور پر متوازن (لوڈ بیلنس) کریں تاکہ سسٹم پر گرنے والے اضافی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

عارضی ٹرالی ٹرانسفارمرز کا مطالبہ

مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے ٹرانسفارمرز کی فراہمی تک ضرورت کے مطابق عارضی ٹرالی ٹرانسفارمرز کو متحرک اور آپریشنل کیا جائے تاکہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو کم از کم جزوی طور پر بحال رکھا جا سکے۔

لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی لیسکو کا شمار ملک کی سب سے بڑی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

ہر سال موسمِ گرما اور حبس کے دوران بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث لیسکو کا بوسیدہ ترسیلی نظام جواب دے جاتا ہے۔

تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی کی جانب سے بروقت نئے ٹرانسفارمرز کی خریداری نہ کرنے، سسٹم کی اپ گریڈیشن میں تاخیر اور غیر قانونی کنڈوں کے ذریعے بجلی چوری کی وجہ سے ٹرانسفارمرز پر گنجائش سے زیادہ لوڈ پڑتا ہے، جو ان کے جلنے کی بڑی وجہ بنتا ہے۔

گلی محلوں میں بجلی کی بندش کی اصل وجہ

رواں سال نئے ٹرانسفارمرز کے اسٹاک میں کمی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ 200 کے وی اے کے ٹرانسفارمرز لیسکو کے ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیے جاتے ہیں اور ان کی قلت براہِ راست گلی محلوں کی سطح پر بجلی کی معطلی کا سبب بن رہی ہے۔

مزید پڑھیں:خواجہ آصف کے لیسکو اہلکاروں پر بغیر رسید رقم وصولی کے الزامات، ایکسین، ایس ڈی او سمیت 5 اہلکارمعطل

انتظامیہ کی جانب سے ٹرالی ٹرانسفارمرز کا استعمال اور لوڈ بیلنسنگ کی ہدایات محض ایک عارضی ’بینڈ ایڈ‘ علاج ہے، جس سے مستقل بنیادوں پر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اگر لیسکو نے فوری طور پر نئے ٹرانسفارمرز کی خریداری کے لیے ہنگامی فنڈز جاری نہ کیے اور بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات نہ اٹھائے، تو آنے والے دنوں میں لیسکو کا پورا پاور سسٹم بیٹھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں لاہور سمیت دیگر شہروں کو بدترین بلیک آؤٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Related Articles