وزیر دفاع خواجہ آصف نے لیسکو اہلکاروں پر الزام عائد کیا ہے کہ ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے 80 ہزار روپے بغیر رسید وصول کیے گئے، جس کے بعد معاملہ سامنے آتے ہی کارروائی شروع کر دی گئی۔
وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ان کے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر جل گیا تھا، جس پر مقامی افراد نے لیسکو کے ایک اہلکار سے رابطہ کیا،مرمت کے بعد اہلکاروں نے 80 ہزار روپے وصول کیے، تاہم کوئی رسید فراہم نہیں کی گئی۔
میرے گھریلو ملازم کے گاؤں میں ٹرانسفارمر کل جل گیا۔ لیسکو کے ایک پرانے مہربان ceo کو فون کیا کے کسی کو فون کریں اور مہربانی فرمائیں ۔ ملازمین نے ٹرانسفارمر مرمت کردیا اور 80000روپے لیے اور مرمت کردیا۔ گاؤں والوں نے چندہ جمع کرکے لیسکو کے ملازمین کو ادا کردیا۔ رسید کسی نے نہیں دی۔…
انہوں نے کہا کہ یہ رقم گاؤں والوں نے چندہ جمع کر کے ادا کی، لیکن ادائیگی کے باوجود رسید دینے سے انکار کیا گیا، جس پر انہوں نے سوال اٹھایا کہ عام شہری کے ساتھ اس سے زیادہ کیا سلوک ہوتا ہوگا۔
خواجہ آصف کے بیان کے بعد لیسکو بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی، ذرائع کے مطابق ایکسین پھول نگر اور ایس ڈی او پتوکی کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر عملے کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ٹرانسفارمر کی مبینہ غیر قانونی مرمت اور معاملے میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی ہے۔
دوسری جانب لیسکو انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے منیجر ایس اینڈ آئی کو انکوائری شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ علاقہ پتوکی کے چک 27 ڈھولن سے متعلق بتایا جا رہا ہے، جہاں ٹرانسفارمر خراب ہونے پر شکایت درج کروائی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق مقامی افراد نے 100 کے وی کے بجائے 200 کے وی ٹرانسفارمر کی درخواست کی تھی، اور بعد ازاں مبینہ طور پر مقامی شخص کے ذریعے مرمت کرائی گئی۔ واقعے میں غفلت کے الزام پر کئی اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے جبکہ معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے۔