یورپی یونین نے ایران سے متعلق اپنی پالیسی میں ممکنہ نرمی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو تہران پر عائد پابندیوں کو بتدریج کم کیا جا سکتا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے یورپی رہنماؤں کو بتایا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ نہ صرف پابندیوں میں نرمی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ یہ ایک مستقل جنگ بندی کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
یہ اہم پیش رفت قبرص میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران سامنے آئی جہاں یورپی یونین کے رہنما مصر، شام اور لبنان کے نمائندوں کے ساتھ علاقائی صورتحال پر غور کر رہے ہیں۔ اجلاس میں خاص طور پر ایران، توانائی کی ترسیل اور سکیورٹی چیلنجز پر توجہ مرکوز کی گئی۔
دوسری جانب یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا ہے اسے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پر کسی قسم کی پابندی عالمی معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات مضبوط اور مؤثر معاہدے پر منتج نہ ہوئے تو دنیا کو ایک زیادہ خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے ایران جوہری معاہدہ 2015 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے معاہدوں نے کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا تاہم بعد میں امریکا کی علیحدگی نے حالات کو دوبارہ پیچیدہ بنا دیا۔