آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ ، تعلیم مہنگی ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ ، تعلیم مہنگی ہونے کا امکان

مالی سال برائے سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے بعد ملک میں تعلیم کا حصول مزید مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کے بعد بجٹ 2026-27 کے بعد تعلیم مہنگی ہونے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے ، ملک میں پہلے ہی مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ رکھی ہے، مگر اب تعلیمی اخراجات میں ممکنہ اضافہ والدین کے لیے ایک نیا مالی دباؤ بن کر سامنے آ رہا ہے کیونکہ اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس میں اضافہ  لگانے کی تجویز ہے ۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے اسٹیشنری پر دی جانے والی 10 فیصد سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس اقدام کے بعد حکومت پر دباؤ ہے کہ وہ فنانس بل 2026 میں یہ رعایت واپس لے لے۔

اگر یہ فیصلہ منظور ہو جاتا ہے تو یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر سیلز ٹیکس 18 فیصد تک بڑھ سکتا ہے،  اس کا براہ راست اثر کاپیوں، رجسٹرز، قلم، پنسل اور دیگر تعلیمی سامان پر پڑے گا، والدین کے ماہانہ تعلیمی اخراجات میں واضح اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

بجٹ 2026-27 کے بعد تعلیم مہنگی ہونے کی صورتحال سب سے زیادہ کم آمدنی والے گھرانوں کو متاثر کرے گی ،  پہلے ہی بہت سے والدین اپنے بچوں کی فیسیں اور تعلیمی اخراجات بمشکل پورے کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اسکول ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے، مزید یہ کہ دیہی علاقوں میں صورتحال زیادہ سنگین ہو سکتی ہے جہاں آمدنی پہلے ہی محدود ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آئندہ بجٹ میں بڑا جھٹکا ؟ متعدد اشیا پر ٹیکس مراعات ختم ہونے کا امکان

ذرائع کے مطابق IMF نے نہ صرف ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس کو 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

حکومت اس وقت فنانس بل 2026 میں ان تجاویز پر غور کر رہی ہے،  اگر یہ فیصلہ منظور ہو گیا تو یہ نیا ٹیکس یکم جولائی 2026 سے نافذ ہو سکتا ہے ، یہ  صورتحال حکومت کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کر رہی ہے، جہاں ایک طرف مالی خسارہ کم کرنا ہے اور دوسری طرف عوامی ریلیف برقرار رکھنا ہے۔

اگر یہ پالیسی نافذ ہو گئی تو سکول بیگز اور اسٹیشنری کی قیمتیں بڑھ جائیں گی ، تعلیمی اخراجات میں مجموعی اضافہ ہوگا اور کم آمدنی والے طلبہ متاثر ہوں گے جس سے تعلیم تک رسائی مزید محدود ہو سکتی ہے

ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے متبادل سبسڈی یا ریلیف نہ دیا تو اس کے سماجی اثرات طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔

مختصر یہ کہ بجٹ 2026-27 اسٹیشنری پر ممکنہ ٹیکس اضافہ نہ صرف تعلیمی اخراجات بڑھائے گا بلکہ عام گھرانوں کے لیے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا بھی مشکل بنا سکتا ہے۔

اگر بروقت متوازن پالیسی نہ اپنائی گئی تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ براہ راست ملک کے تعلیمی مستقبل پر بھی پڑیں گے۔

editor

Related Articles