گلگت بلتستان انتخابات ،غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ جاری ، بڑے برج الٹ گئے

گلگت بلتستان انتخابات ،غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کا سلسلہ جاری ، بڑے برج الٹ گئے

گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے پولنگ کے بعد غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے،غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی نے9، مسلم لیگ (ن) نے7(2حمایت یافتہ امیدوار) پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ 2 آزاد امیدواروں اور مجلس وحدت مسلمین کے ایک امیدوار نے کامیابی سمیٹی ہے۔

گلگت بلتستان میں ہونیوالے انتخابات میں کئی بڑے رہنمائوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں سابق گورنر جلال خان ، قوم پرست رہنما نواز خان ناجی، سابق وزیراعلیٰ حاجی گلبر خان اور دیگر شامل ہیں۔

اب تک موصول ہونیوالے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کا کوئی بھی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا جبکہ اسلامی تحریک اور جے یو آئی( ف) کا بھی کوئی امیدوار کامیابی نہیں سمیٹ سکا۔ایم ڈبلیو ایم کے بھی صرف ایک امیدوار سابق اپوزیشن لیڈرکاظم میثم کامیاب ہوئے ہیں۔

حلقہ جی بی اے 1 گلگت 1

پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10ہزار568ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین 6245 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حفیظ الرحمان 11333ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جمیل احمد 6649ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 3 گلگت 3

تمام 82 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار سید سہیل عباس7877 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے آفتاب حیدر ایڈووکیٹ 7361 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 4 نگر 1

پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر 7654 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری 6597 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 5 نگر 2

تمام 32 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذوالفقار علی مراد 2705 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے ریاض اکبر 2584 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 6 ہنزہ

پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نیک نام کریم 6111ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ، ہنزہ اتحاد کے راجہ ناظم الدین 4700ووٹ لے کر دوسرے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امتیاز الحق 4540 ووٹ ووٹ لے کر تیسرےنمبر پرہے۔

حلقہ جی بی اے 7 اسکردو 1

تمام 31 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سید توقیر مہدی 4337 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال حسین خان 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔مسلم لیگ ن کے اکبر تابان تیسرے نمبر پر رہے

حلقہ جی بی اے 8 اسکردو 2

تمام 70 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم میثم10474 ووٹ لیکرجیت گئے، پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 10118 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 9 اسکردو 3

تمام 54 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے فدا محمد ناشاد 6314 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ آزاد امیدوار وزیر محمد سلیم 6106 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 10 اسکردو 4

پیپلز پارٹی کے امیدوار راجا ناصر مقپون 6639 ووٹ لیکر جیت گئےجبکہ مجلس وحدت مسلمین کے امیدوار مشتاق حسین نے 1059 ووٹ حاصل کیے۔

جی بی اے 11

تمام 51 پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری نتیجہ موصول ہو گیاہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے اقبال حسن 6141 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کے محسن رضوی 4170 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے ۔

جی بی اے 12 شگر

پیپلزپارٹی کے امیدوار عمران ندیم 12179 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے راجہ اعظم خان 7700ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 13 استور 1

57 پولنگ اسٹیشنز میں سے 36 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 4368 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار شاہدہ 4312 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کے فہد حنیف 4803 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔

استور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی کے مطابق اس حلقہ میں کل دوباہ گنتی کیلئے دونوں امیدواروں کو بلا یا گیا ہے

جی بی اے14استور 2

پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا فاروق نے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلزپارٹی کےسید عباس موسوی دوسرےنمبر، استحکام پاکستان پارٹی کے شمس الحق تیسرے نمبر پررہے۔

حلقہ جی بی اے 15 دیامر 1

51 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار محمد دلپزیر 1426 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ولی الرحمان 996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 16 دیامر 2

42 پولنگ اسٹیشنز میں سے 8 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے عتیق اللہ 1302 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم ليگ (ن) کے محمد انور 1069 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 17 دیامر 3

46 پولنگ اسٹیشنز میں سے 11 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد نسیم 2244 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ جے یو آئی ایف کے رحمت خالق 1128 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 18 دیامر 4

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کفایت الرحمان کامیاب ہوگئے جبکہ استحکام پاکستان پارٹی کے گلبر خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

حلقہ جی بی اے 19 غذر 1

سابق ممبر جی بی اسمبلی و قوم پرست لیڈر نواز ناجی ہار گئے ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سید جلال علی شاہ غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق 9613 لے کر کامیاب ہوگئے، نواز ناجی کو مجموعی طور پر 8210 ووٹ پڑے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار ظفر محمد شادم خیل 6545ووٹ حاصل کرکے تیسرے نمبر پر رہے ۔

حلقہ جی بی اے 20 غذر 2

69 پولنگ اسٹیشنز میں سے 25 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار صفدر علی شیرازی 2827 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نذیر احمد ایڈووکیٹ 2713 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 21 غذر 3

60 پولنگ اسٹیشنز میں سے 30 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار امان علی 5169 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 3195 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

حلقہ جی بی اے 22 گانچھے 1

تمام 58 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد ابراہیم ثنائی 9308 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے عاشق حسین 8052 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

حلقہ جی بی اے 23 گانچھے 2

غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار انور علی کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ سابق وزیراورآزاد امیدوار عبد الحمید 2992 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں

حلقہ جی بی اے 24 گانچھے 3

تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار اسد شفیق 8092 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 5072 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

گانچھے 2اور گانچھے 3 پر آزادامیدواروں کو مسلم لیگ کی حمایت حاصل تھی ۔

 گلگت بلتستان اسمبلی مجموعی طور پر 33 نشستوں پر مشتمل ہے، 24 نشستوں پر براہِ راست انتخابات ہوئے، 6 نشستیں خواتین جبکہ 3 ٹیکنوکریٹس کیلیے مختص ہیں۔

گلگت بلتستان میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت لامی درکار ہوگی، یہاں 9 لاکھ 63 ہزار، پانچ لاکھ 6 ہزار مرد اور 4 لاکھ 56 ہزار خواتین ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

editor

Related Articles