اوورسیزپاکستانیوں کے پراپرٹی سے متعلق مسائل کے حل کیلئے حکومت کی جانب سے لاہور میں سہولت سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملک میں اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹیز سے متعلق مسائل کے حل کے لیئے حکومت نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹیز سے متعلق مسائل کے حل لے لیئے سہولت سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے نیب لاہور بیورو کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کوشش ہے حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے لیے لاہور میں بھی مخصوص عدالت قائم کرے تاکہ اس سے ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل ہوں
انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے بھی لاہور میں سہولت سیل کے قیام کے احکامات دیے ہیں جس سے اوورسیز پاکستانیوں کے پراپرٹیز سے متعلق لین دین اور قبضوں سے متعلق مسائل کا حل کیا جائیگا۔ رواں ہفتے اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ہیڈ کوارٹر میں جدہ ٹاؤن اسکینڈل کے متاثرین میں رقوم کی تقسیم کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی۔
تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر کے ہمراہ پراسیکیوٹر جنرل نیب احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی مرزا عرفان بیگ، ڈائریکٹر نیب راولپنڈی الیاس قمر اور دیگر حکام تھے۔ اس موقع پر ایک لاکھ روپے کے چیک تقسیم کئے گئے۔ جدہ ٹاؤن اسکینڈل کے 132 متاثرین میں 97 ملین روپے تقسیم کیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ چیئرمین نیب کے وژن کے مطابق افسران عوام سے لوٹے گئے اثاثوں کی واپسی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں ریکارڈ رقم برآمد کرکے متاثرین کو واپس کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب یہ قومی فریضہ خدمت اور ایمانداری کے جذبے سے سرانجام دے رہا ہے اور متاثرین کی ایک ایک پائی کی وصولی اور انہیں واپس کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان بیگ اور ان کی ٹیم کی جدہ ٹاؤن ہاؤسنگ پراجیکٹ کے متاثرین کے لوٹے گئے فنڈز کی واپسی کے لیے کاوشوں کو سراہا۔ سہیل ناصر نے کہا کہ نیب کی جانب سے عوامی آگاہی مہم بھرپور طریقے سے چلائی جا رہی ہے اور عوام کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ہاؤسنگ پراجیکٹس میں کسی بھی رقم کی سرمایہ کاری کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط برتیں اور کسی کے دھوکے میں نہ آئیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں بڑی تعداد میں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس حوالے سے قانون سازی بھی کی جا رہی ہے تاکہ شہریوں سے فراڈ کرنے والے سزا سے نہ بچ سکیں۔