نیپرا نے سولر لائسنسنگ سے متعلق پھیلنے والی خبروں پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں کئی غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اور سوشل میڈیا سمیت بعض رپورٹس میں دی گئی معلومات درست نہیں ہیں۔
ادارے کے حکام کے مطابق سولر نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نیپرا سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے، تاہم اس کا طریقہ کار پہلے سے موجود قوانین کے مطابق ہی برقرار ہے۔
نیپرا نے واضح کیا کہ 25 کلو واٹ تک کے سولر سسٹمز کی منظوری دینے کا اختیار متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے پاس ہوتا ہے، جبکہ اس سے زیادہ صلاحیت کے کنکشن کے لیے نیپرا کی منظوری درکار ہوتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ آف گرڈ سولر سسٹم استعمال کرنے والے صارفین کو کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی اور وہ براہ راست اپنے نظام کو استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ وہ قومی گرڈ سے منسلک نہیں ہوتے۔
ادارے کے مطابق آن گرڈ سولر کنکشن کے لیے صرف ایک مرتبہ فیس وصول کی جاتی ہے جو ایک ہزار روپے فی کلو واٹ مقرر ہے۔ حکام نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ سولر سسٹمز پر کوئی نیا ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور واضح کیا کہ موجودہ پالیسی میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں کی گئی جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑے۔