پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے کی جانے والی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک فوج نے ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت تباہ کن جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چمن سیکٹر میں دشمن کی متعدد چوکیوں اور جنگی گاڑیوں کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اشتعال انگیزی کی کوشش کی، جس پر پاک فوج نے فوری اور موثر ردِعمل دیا۔
پاک فوج کی شدید گولہ باری اور ٹارگٹڈ کارروائیوں نے دشمن کے حوصلے پست کر دیے ہیں اور انہیں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ ’آپریشن غضب للحق‘ تمام مقررہ اہداف کے حصول اور سرحدوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانے تک جاری رہے گا۔
سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فتنہ الخوارج کا گٹھ جوڑ
پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر گزشتہ چند ماہ سے صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کے معاملے پر پاکستان نے متعدد بار افغان عبوری حکومت کو باور کرایا ہے، تاہم سرحد پار سے جارحیت کا سلسلہ بند نہ ہو سکا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو افغان طالبان کی بعض صفوں سے لاجسٹک اور اخلاقی مدد مل رہی ہے، جو سرحد پر باڑ لگانے کے عمل اور پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔
اس آپریشن کا نام ’حق کے غضب‘ کے طور پر رکھا گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب سرحد پار سے ہونے والی کسی بھی چھوٹی یا بڑی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور ہر حملے کا جواب دشمن کی حدود میں داخل ہو کر دیا جائے گا۔
اسٹرٹیجک ردِعمل اور علاقائی سالمیت
پاک فوج کی حالیہ کارروائی اور ’آپریشن غضب للحق‘ کے اسٹرٹیجک پہلو میں چمن سیکٹر میں دشمن کی چوکیوں کی تباہی افغان عبوری حکومت کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
آپریشن کا مرکز فتنہ الخوارج کے وہ ٹھکانے ہیں جو سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی پسپائی یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاک فوج کی انٹیلیجنس اور آپریشنل صلاحیتیں دشمن پر بھاری ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا غیر متزلزل عزم اس بات کی ضمانت ہے کہ ریاست پاکستان اپنی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے ہر حد تک جائے گی۔ یہ آپریشن اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی کے معاملے پر اب کسی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہوگا۔