آبنائے ہرمز میں آمدورفت لوٹ آئی، 1 ہی دن میں 31 جہازوں کا گزر، عالمی معیشت بھی سانسیں لینے لگی

آبنائے ہرمز میں آمدورفت لوٹ آئی، 1 ہی دن میں 31 جہازوں کا گزر، عالمی معیشت بھی سانسیں لینے لگی

عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھنے والی اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت معمول کی طرف واپس آنا شروع ہو گئی ہے اور عالمی تجارتی سرگرمیاں انتہائی احتیاط کے ساتھ بحال کی جا رہی ہیں۔

برسلز میں قائم ایک معتبر میری ٹائم ٹریکر کمپنی کی رپورٹ کے مطابق، 23 جون کو ریکارڈ 31 بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کو بحفاظت عبور کیا۔

ان جہازوں میں خام تیل اور گیس لے جانے والے توانائی کے ٹینکرز اور تجارتی سامان سے لادے کارگو جہاز دونوں شامل ہیں، جو اس اہم خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور معاشی استحکام کی علامت ہے۔

بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی تفصیلات

میری ٹائم ٹریکر کمپنی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے زیادہ تر بحری جہاز مغرب سے مشرق کی سمت سفر کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی یقینی بنانا ضروری ہے، امریکی وزیر خارجہ

محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ایرانی، عمانی اور بین الاقوامی بحری راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس وقت یہ پوری آبی گزرگاہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے تحت کام کر رہی ہے، جس نے بین الاقوامی تجارتی بیڑوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا ہے۔

عالمی اہمیت اور پس منظر

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم ترین آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے دنیا بھر کی کل ضرورت کا تقریباً 20 فیصد خام تیل گزرتا ہے۔

گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران خطے میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی، جہازوں پر حملوں کے خدشات اور سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے عالمی انشورنس کمپنیوں نے اس روٹ پر سفر کرنے والے جہازوں کے کرایوں اور انشورنس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔

جس سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں یکدم بڑھ گئی تھیں۔ حالیہ امریکی ایرانی مفاہمت کا مقصد اسی کشیدگی کو کم کرنا تھا تاکہ عالمی توانائی کا بحران پیدا نہ ہو۔

آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی یہ بحالی عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ 31 جہازوں کا ایک ہی دن میں گزرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ جہاز رانی کی یہ بحالی ‘احتیاط’ کے ساتھ منسلک ہے، جس کا مطلب ہے کہ بحری بیڑے اب بھی ہائی الرٹ پر ہیں اور ان کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین مفاہمت کی یہ یادداشت اگرچہ عارضی امن کا باعث بنی ہے۔

مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ، کسی کو فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں ،مارکو روبیو

لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پائیدار سیاسی حل ناگزیر ہے، ورنہ معمولی سی چنگاری دوبارہ عالمی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہے۔

Related Articles