سونا خریدنے کے خواہشمند افراد کیلئے خوشخبری ، عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں آج (جمعرات) کو بھی کمی کا رجحان برقرار رہا اور قیمتیں سات ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات نے سونے کی قیمت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جہاں اسپاٹ گولڈ 0.4 فیصد کمی کے بعد 3,985.89 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ ہوا، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز برائے اگست 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 4,001.60 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
گزشتہ روز سونے کی قیمت پہلی بار نومبر 2025 کے بعد 4 ہزار ڈالر فی اونس کی اہم سطح سے نیچے گر گئی تھی، مارکیٹ ماہرین کے مطابق ڈالر کی قدر میں اضافے اور شرح سود بڑھنے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو سونے سے دور کر دیا ہے۔
سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق سرمایہ کار رواں سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے تین مرتبہ شرح سود میں اضافے کی توقع کر رہے ہیں، جبکہ ستمبر میں شرح سود بڑھنے کے امکانات تقریباً 67 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی ڈالر مسلسل تیسرے روز مضبوط ہوا اور 13 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل خریداروں کے لیے سونا مزید مہنگا ہو گیا۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایران تنازع کے مہنگائی پر ممکنہ اثرات کو بھی مدنظر رکھیں، سرمایہ کار اب امریکی پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر (PCE) ڈیٹا کے منتظر ہیں، جسے فیڈرل ریزرو مہنگائی کا اہم اشاریہ تصور کرتا ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.2 فیصد کمی کے ساتھ 57.33 ڈالر فی اونس رہی، پلاٹینم 0.2 فیصد گر کر 1,575.85 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ پیلیڈیم 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ 1,170.25 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں پر دباؤ کی ایک بڑی وجہ بانڈ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی پیداوار ہے، جس کے باعث سرمایہ کار زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، چونکہ سونا براہِ راست منافع نہیں دیتا، اس لیے اس کی کشش میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔