پاکستان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی طالبان اہلکار علاج کے لیے بھارت منتقل، ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آگئے

پاکستان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی طالبان اہلکار علاج کے لیے بھارت منتقل، ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آگئے

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے طالبان اہلکاروں کو خفیہ طور پر علاج کے لیے بھارت منتقل کیے جانے کے سنسنی خیز اور ناقابلِ تردید ثبوت سامنے آئے ہیں۔

عالمی میڈیا نیٹ ورک ’افغانستان انٹرنیشنل‘ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی سیکیورٹی فورسزکے ساتھ اسپن بولدک کے محاذ پر زخمی ہونے والا ایک طالبان جنگجو اس وقت بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں زیرِ علاج ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کی باجوڑ،مہمند اور دیر کے سرحدی علاقوں میں بلااشتعال فائرنگ، پاکستان کا منہ توڑ جواب، دشمن کی گنیں خاموش

رپورٹ کے مطابق ادارے کے نمائندے نے نئی دہلی کے مشہور علاقے ’لاجپت نگر‘ میں اس زخمی طالبان اہلکار اور اس کے 2 ساتھیوں سے براہِ راست ملاقات کی ہے، جہاں وہ مقیم ہیں اور زخمی اہلکار کو شدید چوٹوں کے باعث چلنے پھرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔

وزیرِ دفاع ملا یعقوب کا براہِ راست حکم اور ویزے کا اِجرا

زخمی طالبان اہلکار نے میڈیا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وہ پاک افغان سرحدی ضلع اسپن بولدک میں پاکستانی فورسز کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپ کے دوران زخمی ہوا تھا۔

اس نے ایک انتہائی اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے بھارت سفر اور مہنگے علاج کا تمام تر انتظام طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب مجاہد کے براہِ راست اور خصوصی حکم پر کیا گیا، جبکہ کابل میں قائم بھارتی سفارت خانے نے اعلیٰ سطح کی ہدایت پر ان کے ویزوں کے فوری اِجراء میں بھرپور تکنیکی و سفارتی تعاون فراہم کیا۔

تاہم اس معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر کابل میں بھارتی سفارت خانے اور طالبان کی وزارتِ دفاع نے اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ اس وقت ایسے کتنے اراکین بھارت میں موجود ہیں۔

افغان شہریوں کے لیے بھارت کی نئی ویزا پالیسی

اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر افغان شہریوں کے لیے معمول کے ویزے اور ای ویزا سروسز کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا۔

تاہم  سال 2025 کے آغاز سے بھارت نے افغان شہریوں کے لیے ایک نیا اور اسمارٹ ویزا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت میڈیکل ویزا، میڈیکل اٹینڈنٹ ویزا، بزنس ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا اور اقوامِ متحدہ سے متعلق ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ بھارتی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ ہر درخواست کا انفرادی اور سخت سیکیورٹی بنیادوں پر جائزہ لیا جاتا ہے اور طبی و انسانی ہمدردی کی بنیاد پر درخواستوں کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر طالبان جنگجوؤں کو اس کی آڑ میں ویزا ملنا نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

پاک افغان سرحدی کشیدگی

گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے مابین تعلقات شدید ترین کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ ڈورنڈ لائن (سرحد) پر بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ، فضائی حملوں اور براہِ راست فوجی جھڑپوں کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

سال 2021 میں طالبان کی کابل واپسی کے بعد سے سرحدی علاقوں میں بدامنی اور کالعدم عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے باعث دونوں فورسز کے متعدد اہلکار مارے جا چکے ہیں اور زخمی ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:قلعہ سیف اللہ سیکٹر اورچمن سیکٹر میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی ہیوی گنز کا قہر، افغان طالبان اپنی پوزیشنز چھوڑ کر فرار

اقوامِ متحدہ کے مطابق اس جاری پاک افغان تنازع اور گولہ باری میں سب سے زیادہ نقصان دونوں طرف کے عام شہریوں کو اٹھانا پڑا ہے۔

کابل اور نئی دہلی کے بدلتے ہوئے سفارتی تعلقات

ماضی میں بھارت کو افغان طالبان کا روایتی حریف سمجھا جاتا تھا اور نئی دہلی کے تعلقات کابل میں اشرف غنی کی جمہوریت پسند حکومت کے ساتھ انتہائی گہرے تھے۔

تاہم اگست 2021 کے بعد جیو پولیٹیکل مجبوریاں بدل گئیں۔ بھارت نے کابل میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ فعال کیا اور اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لیے طالبان انتظامیہ کے ساتھ ‘ٹیکنیکل لاجسٹک’ تعلقات قائم کیے۔

اب تک طالبان حکومت کے 3 اہم ترین وزرا، جن میں وزیرِ خارجہ امیر خان متقی، وزیرِ صنعت و تجارت نورالدین عزیزی اور وزیرِ صحتِ عامہ نور جلال جلالی شامل ہیں، سرکاری طور پر بھارت کے تعمیری دورے کر چکے ہیں۔ پاکستان نے ان بڑھتے ہوئے دوروں اور روابط پر ہمیشہ محتاط تشویش اور سخت تنقید کا اظہار کیا ہے۔

بھارت کی ’سافٹ پاور‘ اور نئی اسٹریٹجی

 بھارت اس وقت طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان میں اپنی سفارتی، طبی اور اقتصادی موجودگی کو بتدریج بڑھا رہا ہے۔ طالبان جنگجوؤں کو طبی ویزے دینا نئی دہلی کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ طالبان کی قیادت (بالخصوص ملا یعقوب دھڑے) کے اندر اپنے لیے ہمدردی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ پاکستان کے روایتی اثر و رسوخ کو کم کرنے کی ایک گہری سفارتی چال ہے۔

طالبان کا اسٹرٹیجک جھکاؤ

طالبان حکومت معاشی بدحالی اور بین الاقوامی تنہائی کے دور سے گزر رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی سیکیورٹی اور تجارتی کشیدگی کے بعد، طالبان اپنے انحصار کو پاکستان سے منتقل کر کے بھارت اور دیگر علاقائی ممالک کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں:ٹی ٹی اے کی چمن بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کاروائی، افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹس اور بکتر بندٹینک تباہ

پاکستان کے خلاف لڑنے والے اہلکار کا بھارت میں علاج کروانا یہ واضح پیغام ہے کہ کابل اب اسلام آباد کی حساسیت کی پرواہ نہیں کر رہا۔

پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج

پاکستان اس پوری پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی رقابت کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ اگر بھارت اور طالبان کے روابط محض اقتصادی حدود سے نکل کر سیکیورٹی اور لاجسٹک تعاون (جیسے زخمیوں کا علاج) تک پہنچ گئے ہیں، تو یہ پاکستان کے مغربی بارڈر کے لیے طویل مدتی خطرہ بن سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر بیک وقت سیکیورٹی دباؤ بڑھانے کی بھارتی حکمتِ عملی کو تقویت مل سکتی ہے۔

Related Articles