حکومت کا بڑا فیصلہ ، پولیس اختیارات میں کمی،گرفتاریوں کے اختیارات محدود

حکومت کا بڑا فیصلہ ، پولیس اختیارات میں کمی،گرفتاریوں کے اختیارات محدود

پنجاب اسمبلی میں ضابطہ فوجداری 1898 میں اہم اور بڑی قانونی تبدیلی کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت پولیس کے گرفتاری کے اختیارات کو محدود کرنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔

 اسپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت پر متعلقہ کمیٹی نے قانون میں ترامیم کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کر لیا ہے۔ مجوزہ ترمیم میں ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 55 (بی) کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش شامل ہے۔

 یہ دفعہ پولیس کو اس صورت میں گرفتاری کا اختیار دیتی تھی جب کسی شخص سے تسلی بخش جواب نہ مل سکے تاہم اب اس شق کو مبینہ طور پر غلط استعمال کیے جانے پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ پالیسیوں پر تنقید، پوپ لیو عالمی توجہ کا مرکز بن گئے،مقبولیت بڑھنے لگی

مجوزہ تبدیلی کے مطابق پولیس کے اختیارات کو مزید واضح اور محدود کیا جائے گا اور گرفتاری کی کارروائی صرف ان افراد تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جو ریکارڈ یافتہ یا عادی مجرم ہوں۔

کمیٹی اجلاس میں دفعہ 55 (بی) کے استعمال اور اس کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے اس حوالے سے اب تک ہونے والی تمام کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مجوزہ ترمیم پولیس اختیارات کے دائرہ کار میں اہم تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور فوجداری نظام میں گرفتاری کے عمل کو مزید سخت قواعد کے تابع کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *