قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت کے سکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کتابوں پر پلاسٹک کور کے استعمال پر پابندی سے متعلق اہم بل منظور کر لیا، جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی میں کمی اور نئی نسل کو پلاسٹک کے مضر اثرات سے محفوظ بنانا ہے۔
بل کے مطابق کتابوں پر پلاسٹک کور کا استعمال ماحولیات اور انسانی صحت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے، قانون سازی میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن پلاسٹک فضلہ پیدا ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ ناقابلِ تحلیل ہونے کے باعث زمین، آبی ذخائر اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
بل کے متن میں اس تاثر کو بھی مسترد کیا گیا کہ پلاسٹک کور کتابوں کے لیے پائیدار تحفظ فراہم کرتے ہیں، قانون سازوں کے مطابق یہ عمل وقتی سہولت تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ماحول کو طویل المدتی نقصان پہنچ رہا ہے۔
نئے قانون کے تحت تعلیمی اداروں میں پلاسٹک کے بجائے کاغذ، کپڑے اور قدرتی طور پر تحلیل ہونے والے مواد کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ ماحول دوست متبادل کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرینِ ماحولیات نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں سے پلاسٹک کے استعمال میں کمی نہ صرف طلبہ میں شعور پیدا کرے گی بلکہ ملک میں ماحولیاتی تحفظ کی مہم کو بھی تقویت ملے گی۔
قانون سازی کا بنیادی مقصد بچوں اور نوجوانوں کو پلاسٹک آلودگی کے خطرات سے محفوظ رکھنا اور مستقبل کے لیے صاف، صحت مند اور محفوظ ماحول کی بنیاد رکھنا ہے۔