گلگت بلتستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما امجد حسین ایڈووکیٹ یکم جولائی کو اپنے عہدے کا باقاعدہ حلف اٹھائیں گے، جس کے ساتھ ہی خطے میں نئی جمہوری حکومت کا باضابطہ آغاز ہو جائے گا۔
۔حلف برداری کی یہ باوقار اور تاریخی تقریب چیف منسٹر سیکرٹریٹ گلگت میں منعقد ہوگی، جہاں گلگت بلتستان کی اہم سیاسی، سماجی، عسکری اور سرکاری شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ اس تقریب کو یادگار بنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی خصوصی طور پر گلگت پہنچیں گے، جبکہ تقریب کے باقاعدہ دعوت ناموں کی تقسیم کا عمل بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
بلامقابلہ انتخاب اور سیاسی برتری
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں نئے قائدِ ایوان (وزیر اعلیٰ) کا انتخاب 22 جون کو عمل میں لایا گیا تھا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار امجد حسین ایڈووکیٹ تمام سیاسی جماعتوں کے مابین وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے کے بعد بلامقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔
ان کے بلامقابلہ منتخب ہونے سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ خطے کے موجودہ جیو پولیٹیکل حالات میں انہیں تمام حلقوں اور اسٹیک ہولڈرز کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔
چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں تیاریاں عروج پر
یکم جولائی کو ہونے والی تقریبِ حلف برداری کے لیے چیف منسٹر سیکرٹریٹ گلگت میں سیکیورٹی اور لاجسٹک کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق، وفاق اور دیگر صوبوں سے آنے والے معزز مہمانوں کے استقبال کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور سیکیورٹی کو انتہائی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ تقریب کا انعقاد پرامن اور احسن طریقے سے ممکن ہو سکے۔
گلگت بلتستان کی سیاست گزشتہ چند ماہ سے شدید جوڑ توڑ اور آئینی بحران کا شکار رہی ہے، جہاں سابقہ دورِ حکومت کے خاتمے یا سیاسی تبدیلیوں کے بعد ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کا قیام ناگزیر ہو چکا تھا سٹریٹجک لحاظ سے اہم اس خطے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنا اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو آگے بڑھانا نئی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان کی سیاست میں ہمیشہ سے گہرا اثر و رسوخ رہا ہے، اور امجد حسین ایڈووکیٹ طویل عرصے سے خطے میں پارٹی کے فرنٹ لائن لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، جنہوں نے اپوزیشن اور حکومت دونوں بینچوں پر رہتے ہوئے ایک متحرک کردار ادا کیا ہے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ کا بلامقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونا اور اب یکم جولائی کو حلف اٹھانا پیپلز پارٹی کے لیے ایک بہت بڑی سیاسی کامیابی ہے۔
اس تقریب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ذاتی شرکت یہ ثابت کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو اپنی سیاسی ترجیحات میں کتنی اہمیت دیتی ہے اور وہ مرکز کے ساتھ ساتھ اس سٹریٹجک خطے میں بھی اپنی سیاسی گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔
بلامقابلہ انتخاب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امجد حسین ایڈووکیٹ نے دیگر سیاسی جماعتوں (بشمول نون لیگ اور مقامی قوم پرست گروپس) کو کسی نہ کسی پاور شیئرنگ فارمولے یا مفاہمت پر راضی کر لیا ہے۔
تاہم حلف اٹھانے کے بعد نو منتخب وزیر اعلیٰ کے لیے اصل چیلنج ایک متوازن کابینہ کی تشکیل ہوگا، جہاں تمام اتحادیوں کو خوش رکھنا ایک کٹھن مرحلہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، گلگت بلتستان کے مالیاتی بحران کا خاتمہ، وفاق سے گندم کی سبسڈی کا حصول، اور سیاحت کے فروغ جیسے اہم عوامی مسائل نئی حکومت کی کارکردگی کا اصل امتحان ہوں گے۔