سرکاری نرخنامہ ہوا میں اڑ گیا، روٹی 20 روپے تک فروخت، نانبائیوں کا سستا بیچنے سے صاف انکار

سرکاری نرخنامہ ہوا میں اڑ گیا، روٹی 20 روپے تک فروخت، نانبائیوں کا سستا بیچنے سے صاف انکار

صوبائی دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں ضلعی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث مہنگی روٹی کی فروخت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے۔

حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اپنے ہی جاری کردہ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کروانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے۔

نانبائیوں نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے روٹی کی قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کر دیا ہے، جس سے غریب اور دیہاڑی دار طبقہ شدید ذہنی و معاشی کرب کا شکار ہو چکا ہے۔

سرکاری ریٹ 14 روپے، مارکیٹ میں 20 روپے کی فروخت

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ موجودہ سرکاری نرخ نامے کے مطابق سادہ روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔

لاہور کے اکثریتی علاقوں اور بازاروں میں روٹی کی سرکاری قیمت کو پسِ پشت ڈال کر 20 روپے تک من مانی فروخت جاری ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ تندوروں پر کوئی بھی دکاندار 14 روپے میں روٹی دینے کو تیار نہیں اور پوچھنے پر بدتمیزی کی جاتی ہے۔

نانبائی ایسوسی ایشن کا مؤقف، ’14 روپے میں بیچنا ممکن نہیں’

دوسری جانب نانبائی ایسوسی ایشن نے 14 روپے میں روٹی کی فروخت سے صاف انکار کرتے ہوئے حکومت کے سامنے اپنے تحفظات کا ڈھیر لگا دیا ہے۔

نانبائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی ، آٹے کے تھیلے کی قیمتوں اور دکانوں کے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جب رویہ بدلتا ہے تو سیاست بھی بدلتی ہے، لاہور آمد پر بیرسٹر سیف کا صوبائی وزراء کی جانب سے پرتپاک استقبال

ان کا مؤقف ہے کہ مہنگے ایندھن اور آٹے کے باعث سرکاری نرخ پر عملدرآمد کرنا اب ان کے بس میں نہیں رہا اور 14 روپے میں روٹی بیچ کر تندور کے روزمرہ اخراجات اور کاریگروں کی اجرتیں پوری کرنا ممکن ہی نہیں رہا۔

لاہور اور پنجاب کے دیگر بڑے شہروں میں روٹی اور نان کی قیمتوں کا تنازع نیا نہیں ہے۔ حکومت اکثر و بیشتر آٹے پر سبسڈی دینے یا فلور ملز کے ساتھ معاہدوں کے بعد روٹی کی قیمتیں کم کرنے کا علامتی نوٹیفیکیشن تو جاری کر دیتی ہے، مگر تندوروں پر استعمال ہونے والی گیس اور کمرشل گیس سلنڈرز  کی قیمتوں پر کنٹرول نہ ہونے کے باعث یہ پالیسی ناکام ہو جاتی ہے۔

 نانبائیوں کا تندوروں پر گیس کی لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ایل پی جی کا استعمال ان کا سب سے بڑا معاشی دفاع ہوتا ہے، جبکہ عام شہری پسِ پیس رہا ہے۔

مزید پڑھیں:آٹا مہنگا ہونے کے اثرات، روٹی کی قیمت بھی بڑھ گئی،عوام کیلئے ایک اور بڑی پریشانی

لاہور میں روٹی کا بحران بنیادی طور پر ‘سپلائی چین’ اور ‘کمرشل اخراجات’ کے درمیان عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ حکومت کا صرف آٹے کی قیمت دیکھ کر روٹی کا نرخ 14 روپے مقرر کر دینا ایک ادھورا فیصلہ معلوم ہوتا ہے، کیونکہ ایک تندور چلانے کے لیے نانبائی کو مہنگی گیس، بجلی کے بل، دکان کا کرایہ اور لیبر کے اخراجات بھی برداشت کرنے ہوتے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی ناکامی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ صرف کاغذی احکامات جاری کرنے تک محدود ہے اور مارکیٹ پر اس کی گرفت کمزور ہو چکی ہے۔

اس کا حل پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کے ذریعے تندور مالکان پر جرمانے عائد کرنا نہیں، بلکہ حکومت کو نانبائی ایسوسی ایشن کے ساتھ بیٹھ کر ایل پی جی اور کمرشل گیس پر کوئی ریلیف دینا ہوگا، ورنہ تندور بند ہونے یا روٹی مزید مہنگی ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا جو براہِ راست عوام میں حکومت کے خلاف غم و غصے کو جنم دے رہا ہے۔

Related Articles