بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان نے انکشاف کیا ہے کہ 60 سال کی عمر میں طرزِ زندگی میں کی گئی ایک اہم تبدیلی نے نہ صرف ان کا 18 کلوگرام وزن کم کیا بلکہ برسوں سے لاحق مائیگرین کے حملوں میں بھی نمایاں کمی آ گئی۔
بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عامر خان نے بتایا کہ ان کا بنیادی مقصد وزن کم کرنا نہیں تھا بلکہ وہ مسلسل مائیگرین کے مسئلے سے نجات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے اینٹی انفلامیٹری (سوزش کم کرنے والی) غذا اپنائی، جس کے نتائج ان کی توقعات سے کہیں بہتر ثابت ہوئے۔
اداکار کے مطابق اس غذائی منصوبے پر عمل کرنے کے بعد ان کے جسمانی وزن میں 18 کلوگرام کی کمی آئی، جبکہ مائیگرین کے حملے بھی پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو گئے۔ انہوں نے اپنی روزمرہ خوراک کی مکمل تفصیلات تو شیئر نہیں کیں، تاہم بتایا کہ وہ باقاعدگی سے اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ پر عمل کر رہے ہیں۔
اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ کیا ہے؟
عامر خان کے اس انکشاف کے بعد غذائی ماہرین نے بھی اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ کے فوائد پر روشنی ڈالی۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی عارضی ڈائٹ پلان یا وزن کم کرنے کا شارٹ کٹ نہیں بلکہ ایسا غذائی نظام ہے جو جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
ان کے مطابق جسم میں طویل عرصے تک سوزش برقرار رہنے سے دل کے امراض، ذیابیطس، گٹھیا اور دیگر دائمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جبکہ متوازن غذا اس خطرے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ میں کیا کھایا جاتا ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق اس غذائی منصوبے میں تازہ اور قدرتی غذاؤں کو ترجیح دی جاتی ہے، جن میں مختلف اقسام کے پھل، سبزیاں، ثابت اناج، جئی، براؤن چاول، کینوا، باجرہ، دالیں، پھلیاں، میوے، بیج، زیتون اور ایواکاڈو کا تیل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور مچھلی بھی اس غذا کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مناسب مقدار میں سبز چائے، بلیک ٹی اور بغیر چینی یا کم چینی والی کافی بھی اس غذائی نظام میں شامل کی جا سکتی ہے۔
کن غذاؤں سے پرہیز کیا جاتا ہے؟
اینٹی انفلامیٹری ڈائٹ میں میٹھی اشیا، میٹھے مشروبات، سفید آٹے سے بنی غذائیں، تلی ہوئی اشیا، پراسیسڈ فوڈ، ٹرانس فیٹس اور زیادہ چکنائی والی پیک شدہ خوراک سے گریز کی سفارش کی جاتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق یہ غذائی نظام جسم میں سوزش کم کرنے کے ساتھ بہتر نیند، توانائی میں اضافے، وزن کو متوازن رکھنے اور جوڑوں کی صحت بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ عامر خان ماضی میں اپنی فلموں کے مختلف کرداروں کے لیے کئی بار جسمانی وزن اور ساخت میں نمایاں تبدیلیاں لا چکے ہیں، تاہم اس مرتبہ انہوں نے یہ تبدیلی کسی فلمی کردار کے لیے نہیں بلکہ اپنی مجموعی صحت بہتر بنانے اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے لیے کی ہے۔