مغل دور میں جب جدید فریج، ایئر کنڈیشننگ یا بجلی جیسی سہولتیں موجود نہیں تھیں، اس وقت بھی شاہی خاندان گرمیوں میں برف اور ٹھنڈے مشروبات سے لطف اندوز ہوتا تھا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق شہنشاہ ہمایوں، جلال الدین اکبر اور شاہ جہاں کے ادوار میں سردیوں کے موسم میں ہزاروں مزدور پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے تھے جہاں وہ برف کے بڑے بڑے تودے کاٹ کر محفوظ کرتے تھے۔
اس دور میں برف کی ترسیل کے لیے ایک منظم اور تیز رفتار نظام موجود تھا۔ گھوڑوں اور کشتیوں کے ذریعے برف کو مختلف علاقوں تک راتوں رات منتقل کیا جاتا تھا تاکہ وہ زیادہ دیر تک قابل استعمال رہ سکے۔
بعد ازاں اس برف کو خصوصی طور پر تیار کیے گئے زیر زمین برف خانوں میں محفوظ کیا جاتا تھا۔ یہ برف خانے زمین کے کئی فٹ نیچے بنائے جاتے تھے اور ان کی دیواریں انتہائی موٹی ہوتی تھیں تاکہ باہر کی گرمی اندر داخل نہ ہو سکے۔
برف کو محفوظ رکھنے کے لیے اس پر بھوسہ، کپڑے اور راکھ کی تہیں بچھائی جاتی تھیں جو اسے پگھلنے سے بچانے میں مدد دیتی تھیں۔ اس طریقہ کار کی بدولت مغل دور میں شاہی دسترخوان پر گرمیوں میں بھی ٹھنڈے مشروبات اور برف کا استعمال ممکن ہوتا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق یہ نظام اس وقت کی انجینئرنگ اور انتظامی مہارت کا ایک شاندار نمونہ تھا، جو آج بھی حیرت کا باعث بنتا ہے۔