ماہرین کے مطابق مرغیاں اور مرغے انسانوں کے مقابلے میں روشنی میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کو بھی بہت جلد محسوس کر لیتے ہیں، جس کی بڑی وجہ ان کی آنکھوں کی حساسیت ہے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مرغیوں کی بینائی نہ صرف کم روشنی میں بہتر کام کرتی ہے بلکہ وہ الٹرا وائلٹ روشنی کو بھی دیکھ سکتی ہیں، جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتی۔ اسی صلاحیت کی وجہ سے وہ سورج نکلنے سے پہلے ہی فضا میں ہونے والی ہلکی سی روشنی کو محسوس کر لیتی ہیں۔
جیسے ہی صبح کی پہلی روشنی نمودار ہونا شروع ہوتی ہے، مرغے متحرک ہو جاتے ہیں اور بانگ دینے لگتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف دن کے آغاز کی علامت سمجھا جاتا ہے بلکہ ریوڑ میں اپنی موجودگی اور علاقائی حدود ظاہر کرنے کا ایک قدرتی طریقہ بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مرغیوں کا یہ رویہ قدرتی حیاتیاتی گھڑی (biological clock) سے بھی جڑا ہوا ہے، جو انہیں ماحول میں تبدیلیوں کے مطابق وقت سے پہلے ردعمل دینے میں مدد دیتا ہے۔اسی وجہ سے دیہی علاقوں میں اکثر مرغے سورج نکلنے سے پہلے ہی بانگ دیتے سنائی دیتے ہیں، جو دراصل روشنی کے بڑھنے کا ابتدائی اشارہ ہوتا ہے۔