سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن نے اپنے شوہر اور سابق امریکی صدر جوبائیڈن کی صحت کے حوالے سے اہم تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ اسٹیج فور پروسٹیٹ کینسر کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں زندگی بھر اس بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایک حالیہ گفتگو میں جل بائیڈن نے بتایا کہ صدارتی دور کے دوران جو بائیڈن کو رات کے وقت بار بار واش روم جانے کی شکایت رہتی تھی۔ ان کے مطابق سابق صدر ایک رات میں تقریباً سات مرتبہ اٹھتے تھے تاہم اس وقت انہیں یقین تھا کہ وائٹ ہاؤس کی طبی ٹیم اس مسئلے کا جائزہ لے رہی ہوگی۔
جل بائیڈن نے کہا کہ 2025 میں وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے بعد بھی یہ علامات برقرار رہیں جس پر انہوں نے اپنے شوہر کو ماہر امراضِ پیشاب (یورولوجسٹ) سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ ابتدائی طبی معائنے کے دوران ڈاکٹروں کو بعض مشتبہ علامات نظر آئیں جس کے بعد مزید تشخیص کے لیے سی ٹی اسکین کرایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر خاندان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ مسئلہ پروسٹیٹ کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے بعد ازاں طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ جو بائیڈن پروسٹیٹ کینسر کے چوتھے مرحلے میں مبتلا ہیں اور بیماری ہڈیوں تک پھیل چکی ہے جس کے باعث علاج کا عمل نسبتاً پیچیدہ ہو گیا۔
جل بائیڈن کے مطابق بعض مریضوں میں پروسٹیٹ کینسر مکمل طور پر قابلِ علاج ہوتا ہے تاہم جو بائیڈن کے کیس میں بیماری کافی آگے بڑھ چکی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ سابق صدر اس وقت خصوصی ادویات استعمال کر رہے ہیں اور ریڈی ایشن تھراپی کے مراحل بھی مکمل کر چکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ علاج کے دوران جو بائیڈن کو مسلسل پانچ ہفتوں تک ریاست ڈیلاویئر سے فلاڈیلفیا آنا جانا پڑا تاکہ ریڈی ایشن تھراپی کے سیشنز مکمل کیے جا سکیں۔ جل بائیڈن نے کہا کہ بیماری اور علاج یقیناً جسمانی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود سابق امریکی صدر اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ان کے بقول اگرچہ بیماری نے ان کی رفتار کو کسی حد تک کم کیا ہے تاہم وہ اب بھی عوامی تقریبات، سماجی سرگرمیوں اور مختلف معاملات میں بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔