غیر ملکی ورکرز کیلئے خوشخبری یا وارننگ؟ سعودی عرب کا نیا قانون نافذ

غیر ملکی ورکرز کیلئے خوشخبری یا وارننگ؟ سعودی عرب کا نیا قانون نافذ

سعودی عرب میں اقامہ سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے جس کے بعد غیر ملکی کارکنوں کے لیے اہم تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔

نئی ہدایات کے مطابق اقامہ کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے مقررہ وقت میں تجدید نہ کرانے کی صورت میں مزید قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد رہائشی اور ملازمت کے نظام کو مزید منظم اور شفاف بنانا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اقامہ کی مدت ختم ہونے سے قبل یا فوری بعد متعلقہ کفیل یا اسپانسر کے ذریعے تجدید کا عمل مکمل کریں تاکہ کسی بھی قانونی مسئلے سے بچا جا سکے۔ اگر کوئی فرد اقامہ کی تجدید میں تاخیر کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کی ملازمت اور رہائش دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں، سعودی حکومت کا ہزاروں غیرقانونی تارکین بارے بڑا فیصلہ

نئی ہدایات میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی غیر ملکی کا اقامہ تین ماہ سے زائد عرصے تک ختم رہتا ہے تو ایسی صورت میں اسے خصوصی اجازت کے بغیر بھی دوسرے آجر کے پاس منتقل ہونے کا حق حاصل ہو سکتا ہے۔ اس تبدیلی کو غیر ملکی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

قانون کے نفاذ سے نہ صرف اقامہ نظام میں نظم و ضبط بڑھے گا بلکہ وہ کارکن بھی فائدہ اٹھا سکیں گے جو طویل عرصے سے اپنے کفیل کے مسائل کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔ دوسری جانب اسپانسرز اور کمپنیوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے اقامہ امور کو وقت پر مکمل کریں تاکہ کسی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

editor

Related Articles