عمران ریاض، صابر شاکر، عادل راجہ ، شہباز گل کے دعوے ٹھس، پی ٹی آئی کوذلت آمیز شکست

عمران ریاض، صابر شاکر، عادل راجہ ، شہباز گل کے دعوے ٹھس، پی ٹی آئی کوذلت آمیز شکست

گلگت بلتستان کے الیکشن کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کو واضح برتری حاصل ہے جبکہ اب تک کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

انتخابی نتائج سے قبل پی ٹی آئی کے حامی حلقوں اور متعدد بیرون ملک مقیم ڈالروں کے بچاری یوٹیوبرزکی جانب سے مسلسل یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ گلگت بلتستان میں تحریک انصاف غیر معمولی کامیابی حاصل کرے گی۔

عمران ریاض، عادل راجہ ، صابر شاکر، شہباز گل اور دیگر ڈالروں کے پجاری یوٹیوبرز کےایسے سروے اور تجزیے بھی سامنے آتے رہے جن میں تحریک انصاف کو سب سے مقبول جماعت قرار دیا جا رہا تھا،تاہم انتخابی نتائج نے ان دعوؤں کے برعکس تصویر پیش کی۔

تحریک انصاف کے امیدواروں کو گلگت کے عوام نے بری طرح مسترد کردیا یہ واضح ہوگیا کہ عوام اب پی ٹی آئی کو انتخابی سیاست میں کسی صورت نہیں دیکھنا چاہتے ۔

یہ بھی پڑھیں :گلگت بلتستان میں پولنگ کا وقت مکمل، ووٹوں کی گنتی کا آغاز

نتائج سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر موجود مقبولیت اور ووٹ کی حقیقی طاقت میں واضح فرق موجود ہے، گزشتہ کئی ماہ سے بیرون ملک مقیم نام نہاد صحافی اور متعدد یوٹیوبرز یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ تحریک انصاف گلگت بلتستان میں فیصلہ کن برتری حاصل کرے گی۔

ڈالروں کی بچاریوں کی جانب سے مختلف اعداد و شمار اور سروے بھی پیش کیے جاتے رہے، لیکن اب تک کے انتخابی نتائج ان اندازوں کی تصدیق نہ کر سکے اور الیکشن میں تحریک انصاف کو بری طرح مسترد کردیا گیا ۔

مسلم لیگ ن نے انتخابی میدان میں اپنی مضبوط تنظیم، مقامی قیادت اور انتخابی حکمت عملی کے ذریعے اب تک لیڈ لیے ہوئے ہے ن لیگ نے ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

گلگت بلتستان کے نتائج سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ کسی بھی جماعت کی مقبولیت کا اصل پیمانہ انتخابی نتائج ہوتے ہیں نہ کہ صرف سماجی ذرائع ابلاغ پر موجود رجحانات یہی وجہ ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اصل سیاسی طاقت کا اندازہ ووٹوں کی گنتی سے ہوتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے دعوے، سروے اور سماجی ذرائع ابلاغ کی مہمات اپنی جگہ، لیکن حتمی فیصلہ ہمیشہ ووٹر اپنے ووٹ کے ذریعے کرتا ہے اور اس بار عوامی فیصلے نے مسلم لیگ ن کو سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

editor

Related Articles