وزیراعلیٰ پنجاب کے ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے “شی تھریڈز” پراجیکٹ کے تحت 310 ملین روپے کا بجٹ مختص کر دیا ہے
یہ منصوبہ ٹیکسٹائل سیکٹر میں دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری اور ہنرمندی کے فروغ کیلئے شروع کیا گیا ایک منفرد پروگرام ہے، اس پروگرام کے تحت صوبہ بھر کے دیہات سے تعلق رکھنے والی 18 سے 45 سال عمر کی مڈل پاس خواتین حصہ لے سکتی ہیں ۔
اس پروگرام میں شامل خواتین کو تربیت کے دوران ماہانہ 15 ہزار روپے وظیفہ اور ٹرانسپورٹ الاؤنس بھی فراہم کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت دیہی خواتین کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹر کے 10 مختلف تربیتی کورسز متعارف کرائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں یہ ٹیکسٹائل ٹریننگ کورسز کامیابی سے جاری ہیں ، گزشتہ 2 برسوں کے دوران ڈھائی ہزار خواتین ان تربیتی کورسز کو مکمل کر چکی ہیں، جن میں سے 773 خواتین کو تربیت مکمل کرتے ہی ملازمت بھی ملی ۔
حکام کے مطابق اس وقت شی تھریڈز پروگرام کے تحت 1150 خواتین کی ٹیکسٹائل ٹریننگ جاری ہے جبکہ آئندہ سال مزید 1350 خواتین کو تربیت فراہم کی جائے گی۔
پروگرام میں انڈسٹریل اسٹیچنگ مشین آپریٹر، فیبرک کوالٹی انسپکٹر اور فیبرک کٹنگ ایکسپرٹ کے کورسز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ اپیریل پلاننگ اینڈ مرچنڈائزنگ، اپیریل سپروائزر، پیٹرن میکنگ اینڈ کٹنگ، پیٹرن ڈرافٹنگ اینڈ گریڈنگ، کوالٹی کنٹرول، گارمنٹ فنشنگ، پیکر اور گارمنٹ ویکسنگ کے تربیتی کورسز بھی خواتین کیلئے دستیاب ہیں۔
اس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہناہے کہ ہر خاتون کو مالی طور پر خودمختار اور بااختیار بنانا حکومت کا عزم ہے ، ہنرمند عورت ایک قابل قدر قومی اثاثہ ثابت ہوگی، ٹیکسٹائل سیکٹر میں ہنرمند خواتین کیلئے روزگار کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے ویمن ڈویلپمنٹ سعدیہ تیمور کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن ہر خاتون کو مالی طور پر خودمختار اور بااختیار بنانا ہے، اور “شی تھریڈز” پروگرام اسی مقصد کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔