خیبرپختونخوا کے سابق وزیرخزانہ، وزیرصحت تیمور سلیم جھگڑا نے کہا ہے کہ ان کیخلاف الزامات اور سوالات صوبائی احتساب کمیٹی نے تیار نہیں کئے بلکہ کہیں اور سے بنائے گئے ہیں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا نےاپنے اوپر عائد الزامات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی احتساب کمیٹی کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ دو محکموں کے قلمدان رکھتے ہوئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا حالانکہ وزیر کے پاس اختیار ہی نہیں کہ وہ فائل بھیجے۔
تیمور جھگڑا نے کہا کہ رول آف بزنس میں یہ اختیار ہے ہی نہیں بلکہ یہ اختیار سیکرٹری کے پاس ہے۔ اس قسم کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں کیا انہوں نے رولز آف بزنس نہیں پڑھے ہیں؟۔ ان کے مطابق دوسرا الزام یہ تھا کہ 2020ء اور 2022ء میں پولیو کیسز میں اضافہ ہوا حالانکہ خیبرپختونخوا کی تاریخ میں 2021ء ایسا سال تھا جب ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا، اس وقت بھی تیمور جھگڑا وزیرصحت تھے۔ محکمہ صحت میں جتنی بھرتیاں ہوئی ہیں، اس میں وزیر کا کردار ہی نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اثاثوں پر اعتراضات تھے تو وہ ہر قسم کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔ جب وہ سیاست میں آرہے تھے تو اس وقت ان کی تنخواہ 50 ہزار ڈالر تھی۔
صوبائی احتساب کمیٹی کی جانب سے الزامات اور احتساب کے عمل پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان سوالات اور الزامات کے پیچھے کوئی نہ کوئی تحقیقات ایجنسی ہوگی ۔ نیب، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے یا دیگر اداروں نےسوالات بنائے ہیں تو وہ جوابات دینے کیلئے تیار ہیں۔
شیرافضل مروت کے الزام کہ تیمور سلیم جھگڑا نے پی پی رہنما خواجہ ہوتی سے حیات آباد میں بنگلہ خریدا، الزام مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی وہ بنگلہ دکھائے یا ڈیڈ دکھائے۔صوبائی کابینہ میں شمولیت پر تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں یاد کیا، یہ بڑی بات ہے لیکن جب تک اندرونی اختلافات ہیں، پارٹی کی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔علی امین گنڈاپور کو پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ جنہیں کابینہ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں یا نہیں۔
خیبرپختونخوا پر قرضے کے حوالے سے سابق وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ 1000ارب قرضے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ بی آر ٹی کیلئے قرضہ پرویزخٹک کے دور میں لیا گیا، آج بھی خیبرپختونخوا میں بجٹ کی مناسبت سے پنجاب اور سندھ سے کم ہے۔ پی ٹی آئی کے دور اقتدار تک صوبے کا کل قرضہ 365 ارب روپے تھا۔ اسکے بعد اگر قرضہ بڑھا ہے تو روپے کی قدر گرگئی جس کی وجہ سے قرضے میں اضافہ ہوا اور اسکی ذمہ دار پی ڈی ایم حکومت ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ علی امین گنڈاپور کو بھی غلط معلومات فراہم کی گئی تھیں جب انہوں نے بھی کہا کہ صوبے کا کل قرضہ 1000ارب تھا حالانکہ اس وقت بھی صوبے کا قرضہ 550ارب روپے کے قریب تھا۔مائنز اینڈ منرل ایکٹ پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں وفاقی حکومت کی جانب سے ڈکٹیشن کی کوشش کی گئی جو 18ویں آئینی ترمیم کے بعد کسی بھی صورت قبول نہیں کی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک چھوٹی سی قانون سازی سے کالاباغ ڈیم والا مسئلہ بنادیا گیا اور کوئی بھی جماعت اس بل کی حمایت نہیں کرے گی۔