پی ٹی آئی رہنما اور وکلا ہر تین ماہ بعد لندن کیوں جاتے ہیں؟ فیاض الحسن چوہان کا تہلکہ خیز انکشاف

فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے وکلا اور لیڈرز ہر تین ماہ بعد غیر ملکی ایجنسیوں سے تنخواہیں وصول کرنے لندن جاتے ہیں۔

سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ جب سے یہ تحریک شروع ہوئی ہے ہرتین ماہ بعد پی ٹی آئی کے وکلا اور رہنما لندن ضرور جاتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ وہاں جاکر بھارتی ایجنسی ’را‘ اور اسرائیلی ایجنسی ’موساد‘ سے اپنی تنخواہیں لیتے ہیں۔ انہوں نے وہاں انڈر کور ایجنٹ رکھے ہوتے ہیں۔ کوئی وہاں انیل مسرت ٹائپ کے لوگ بٹھائے ہوتے ہیں ، کوئی این جی او بنا کر بیٹھا ہوتا ہے، کوئی فیشن انڈسٹری سے اور کوئی فلم انڈسٹری سے ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ عمران لالیکا نے افواج پاکستان اور عدلیہ کیخلاف ٹویٹس پر معافی مانگ لی

سابق صوبائی وزیر نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں سے پی ٹی آئی کے قومی اور صوبائی سطح کے لیڈرز اور وکلا اپنی تنخواہیں اور فنڈنگ لینے لندن جاتے ہیں۔موساد اور را سے انیل مسرت اور چیکو جیسے لوگوں کو جو پیسہ ملتا ہے یہ ہر تین ماہ بعد عمران خان کے چیلوں اور گماشتوں میں تقسیم کرتے ہیںکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو۔

فیاض الحسن چوہان نے مزید بتایا کہ 2018میں جب تحریک انصاف کی حکومت بنی تو سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور کی ذاتی سوشل میڈیا ٹیم میں اظہر مشوانی 30ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر آیا تھااور اب وہ کروڑپتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بریکنگ میں نے پہلے بھی دی تھی آج پھر بتاتا ہوں کہ 9مئی سے پہلے ایک بار اظہر مشوانی غائب ہوگیا تھا، وہ کسی ایجنسی نے نہیں اٹھا یا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت زمان پارک میں الیکشن کیلئے امیدوار کروڑوں روپے بریف کیس میں لاتے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر بیسیوں بریف کیسز آتے تھے، ایسے ہی بشریٰ بی بی کے علم میں آیا کہ 5،6کروڑ روپے ادھر اُدھر ہوئے ہیں۔ بشریٰ بی بی کو شک تھا کہ اظہر مشوانی نے پیسے اٹھائے ہیں کیونکہ وہ اندر ہی ہوتا تھا۔ اس لیے بشریٰ بی بی کے کہنے پر اظہر مشوانی کو اٹھا یا گیااور اس سے پوچھ گچھ ہوئی تھی۔

editor

Related Articles