سائنسدانوں کی ایک اہم تحقیق نے اس امکان کو مزید تقویت دی ہے کہ زمین پر زندگی کے آغاز میں خلا سے آنے والے کیمیائی اجزا نے اہم کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔
ڈی این اے کو تشکیل دینے والے بنیادی کیمیائی اجزا، جنہیں نیوکلیوبیسز کہا جاتا ہے، زندگی کے لیے انتہائی ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ ڈی این اے میں ایڈینین، گوانین، سائٹوسین اور تھائمین شامل ہوتے ہیں جبکہ آر این اے میں تھائمین کی جگہ یوریسل استعمال ہوتا ہے۔
سائنسدان کئی دہائیوں سے شہابی پتھروں میں ان میں سے بعض اجزا دریافت کرتے رہے ہیں، تاہم یہ سوال برقرار تھا کہ آیا زندگی کے لیے ضروری تمام بنیادی کیمیائی اجزا خلا میں قدرتی طور پر بن سکتے ہیں یا نہیں۔
2022 میں سائنسدانوں نے تین کاربن سے بھرپور شہابی پتھروں کے نمونوں کا تجزیہ کیا، جن میں آسٹریلیا میں گرنے والا مشہور مرچیسن شہابی پتھر بھی شامل تھا۔ تحقیق کے دوران پہلی بار زندگی کے لیے ضروری تمام پانچ بنیادی نیوکلیوبیسز دریافت کر لیے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ دریافت اس بات کا ثبوت نہیں کہ زندگی براہِ راست خلا سے زمین پر آئی، بلکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ زندگی کی تعمیر کے لیے درکار بنیادی کیمیائی اجزا کائنات میں عام طور پر موجود ہو سکتے ہیں اور ان کی تشکیل صرف زمین تک محدود نہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اربوں سال پہلے جب زمین نئی نئی وجود میں آئی تھی تو اس پر مسلسل سیارچوں اور دمدار ستاروں کی بارش ہوتی تھی۔ اس دور کو ’’لیٹ ہیوی بمبارڈمنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان خلائی اجسام کے ذریعے امائنو ایسڈز، شکر اور دیگر نامیاتی مرکبات زمین تک پہنچے، جو بعد میں زندگی کے آغاز میں معاون ثابت ہو سکتے تھے۔
اس نظریے کو سائنسی دنیا میں ’’پین اسپرمیا‘‘کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق زندگی کے لیے ضروری کیمیائی اجزا خلا سے زمین تک پہنچے اور مناسب ماحول ملنے پر زندگی کی بنیاد بن گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زندگی کے بنیادی اجزا خلا میں قدرتی طور پر بن سکتے ہیں تو پھر کائنات میں دوسرے مقامات پر بھی زندگی کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ تحقیق انسانی زندگی کی ابتدا سے متعلق کئی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے اور سائنسدان اب بھی اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زمین پر زندگی کا آغاز آخر کیسے ہوا۔