ایران کے ساتھ بہت اچھا معاہدہ 2 سے 3 روز کے اندر طے پا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

ایران کے ساتھ بہت اچھا معاہدہ 2 سے 3 روز کے اندر طے پا جائے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی سفارت کاری میں ایک بہت بڑے بریک تھرو کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک انتہائی شاندار اور تاریخی معاہدہ آئندہ 2 سے 3 روز کے اندر طے پا سکتا ہے۔

واشنگٹن میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ان افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ بات چیت کا عمل بالکل رکا نہیں ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے ان کی انتظامیہ اس وقت آخری اور حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:’خامنہ ای کا بیٹا قبول نہیں، وہ ایک غیر اہم شخصیت ہے‘: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کی نئی قیادت کے حوالے سے دھماکہ خیز بیان

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے کیونکہ تہران کے خلاف واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ سخت ترین معاشی پابندیاں اور بحری و اقتصادی ناکا بندی مکمل طور پر برقرار ہے۔

اس سخت گیر پالیسی کے نتیجے میں ایران کے لیے بین الاقوامی سطح پر تیل کی ترسیل بالکل بند ہو چکی ہے اور ایرانی حکومت کو بیرونی ذرائع سے کوئی آمدن حاصل نہیں ہو رہی، جس نے انہیں معاہدے کے لیے آمادہ کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند گھنٹے اور دن عالمی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہیں اور اگر ایران ان کی شرائط پر پورا اترتا ہے تو ایک ایسا جامع معاہدہ وجود میں آئے گا جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو محفوظ بنا دے گا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ (میکسیمم پریشر) کے دوسرے مرحلے کے تحت ایران کے گرد معاشی گھیرا تنگ کر رکھا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ 2015 میں ہونے والے پرانے جوہری معاہدے کے سخت مخالف تھے، جس سے انہوں نے امریکا کو الگ کر لیا تھا۔

ان کا ہدف ہمیشہ سے ایک ایسا ‘نیا اور جامع معاہدہ’ رہا ہے جو ایران کے جوہری عزائم کو مستقل طور پر ختم کرے، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو محدود کرے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب ہے، جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ

پچھلے کچھ عرصے سے ایران کے اندرونی معاشی حالات، کرنسی کی ریکارڈ گرتی ہوئی قدر اور تیل کی فروخت پر لگی مکمل پابندیوں نے تہران کی حکومت کو شدید مالی بحران سے دوچار کر رکھا ہے۔

نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات اور اب خود صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے سفارت کار سوئٹزرلینڈ یا اوما ن جیسے کسی تیسرے ملک کے ذریعے خفیہ طور پر ایک بڑے لوکل اور بین الاقوامی معاہدے کے متن کو حتمی شکل دے رہے ہیں، جس کا وقت اب قریب آ پہنچا ہے۔

Related Articles