وزیراعظم نے بجلی کی 3 بڑی کمپنیوں کو نجکاری پر دینے کی منظوری دیدی

وزیراعظم نے بجلی کی 3 بڑی کمپنیوں کو نجکاری پر دینے کی منظوری دیدی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کو درپیش شدید معاشی چیلنجز اور گردشی قرضوں کے خاتمے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔

وزیراعظم کی زیرِ صدارت ڈسکوز کی نجکاری کے امور پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ قومی خزانے پر بوجھ بننے والے اور خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے سرمایہ کاروں سے درخواستیں طلب

انہوں نے حکام کو حکم دیا کہ نجکاری کے اس پورے عمل کو ہر قسم کے شک و شبہے سے بالاتر اور انتہائی شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ڈسکوز کی نجی شعبے کو منتقلی کے بعد صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط اور مضبوط ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

جائزہ اجلاس کو نجکاری کے مروجہ عمل پر دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پہلے مرحلے (فیز 1) میں 3 بڑی کمپنیوں یعنی اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، گوجرانوالا الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کی جا رہی ہے۔

ان تینوں کمپنیوں کی نجکاری کے لیے ‘ایکسپریشن آف انٹرسٹ’ (دلچسپی کا اظہار) ملکی و بین الاقوامی اخبارات میں پہلے ہی شائع کیا جا چکا ہے، جبکہ کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے ان کے ‘ٹرانزیکشن اسٹرکچر’ کی منظوری بھی دے دی ہے۔

اعلیٰ سطح کے حکام نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے اسی ماہ سے بڑے روڈ شوز کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:عارف حبیب گروپ پی آئی اے کو کب سے چلائے گا؟ مشیر نجکاری کا اہم بیان

پاکستان کے اس اہم شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصاً سعودی عرب، ترکیہ اور چین کے بڑے سرمایہ کاروں کے لیے بین الاقوامی سطح پر روڈ شوز منعقد کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ اور جدید ٹیکنالوجی ملک میں لائی جا سکے۔

اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر احمد، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، مشیرِ وزیراعظم برائے نجکاری محمد علی، وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور دیگر متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

پاکستان کا پاور سیکٹر (شعبہ بجلی) طویل عرصے سے ملکی معیشت کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے، جہاں لائن لاسز (بجلی چوری اور تکنیکی خرابیاں) اور بلوں کی عدم وصولی کی وجہ سے گردشی قرضہ (سرکولر ڈیٹ) کھربوں روپے تک جا پہنچا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی پاکستان کے لیے اپنے حالیہ قرضہ پروگراموں میں یہ سخت شرط عائد کی ہے کہ حکومت کو بجلی چوری روکنے اور خزانے کا خسارہ کم کرنے کے لیے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا ہوگا۔

ماضی میں نجکاری کے عمل کو سیاسی مخالفت اور نجکاری کمیشن کی سست روی کی وجہ سے شدید دھچکے لگتے رہے ہیں۔ تاہم، موجودہ حکومت نے معاشی ایمرجنسی کے تحت ان اداروں کی نجکاری کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھیں:حکومت اداروں کی نجکاری سے کھربوں کے نقصان سے نجات حاصل کرے گی،خواجہ آصف

پہلے مرحلے کے لیے آئیسکو، گیپکو اور فیسکو کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ یہ تینوں کمپنیاں دیگر ڈسکوز (جیسے کوئٹہ، سکھر یا حیدرآباد) کے مقابلے میں نسبتاً بہتر کارکردگی کی حامل ہیں، ان کے لائن لاسز کم ہیں اور یہاں بلوں کی وصولی کی شرح بہتر ہے، جس کی وجہ سے سعودی عرب، چین اور ترکیہ جیسے دوست ممالک کے سرمایہ کار ان میں فوری دلچسپی لے سکتے ہیں۔

بین الاقوامی سرمایہ کاری کا حصول اور روڈ شوز

سعودی عرب، چین اور ترکیہ کو ہدف بنانا حکومت کی معاشی سفارت کاری کا حصہ ہے۔ ان روڈ شوز کے ذریعے اگر خلیجی یا چینی کمپنیاں پاکستانی پاور سیکٹر میں آتی ہیں، تو اس سے نہ صرف ملک میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) آئے گی بلکہ بجلی کی تقسیم کا نظام بھی جدید خطوط پر استوار ہوگا۔

مضبوط ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت

وزیراعظم کا نجکاری کے بعد مضبوط ریگولیٹری فریم ورک بنانے کا بیان انتہائی اہم ہے۔ ماضی میں کراچی الیکٹرک (کے الیکٹرک) کی نجکاری کے بعد قیمتوں اور سپلائی پر کئی تنازعات کھڑے ہوئے۔ اگر حکومت نے ‘نیپرا’ جیسے اداروں کو مزید مضبوط نہ کیا، تو نجی کمپنیاں اپنے منافع کے لیے صارفین پر بجلی کے نرخ مزید بڑھا سکتی ہیں، جس کا توازن برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔

بہترین کارکردگی والی کمپنیوں سے آغاز کی حکمتِ عملی

پہلے مرحلے میں فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کو پیش کرنا ایک سمارٹ بزنس سٹرٹیجی ہے۔ خسارے والی کمپنیوں (جیسے لیسکو یا پیسکو) کو سرمایہ کار آسانی سے نہیں خریدتے۔ ان 3 کمپنیوں کی کامیاب نجکاری سے حکومت کا مارکیٹ میں اعتماد بڑھے گا، جس کے بعد وہ دیگر مشکل کمپنیوں کی نجکاری کر سکے گی۔

سیاسی اور انتظامی چیلنجز

اس اجلاس میں پوری معاشی اور قانونی ٹیم (اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، اعظم نذیر تارڑ) کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ حکومت نجکاری کے راستے میں آنے والی قانونی اور ٹریڈ یونینز کی رکاوٹوں سے پہلے سے واقف ہے اور ان سے نمٹنے کے لیے ایک صفحے پر ہے۔ نجکاری کا یہ عمل ملکی معیشت کی سمت کا تعین کرے گا۔

Related Articles