عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد دنیا بھر میں توانائی بحران اور مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق خدشات نے عالمی آئل مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 3.35 فیصد اضافے کے بعد 109.26 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.2 فیصد اضافے کے بعد 105.42 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران برینٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 7.8 فیصد جبکہ WTI میں 10 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے اسی لیے اس اہم بحری راستے کے گرد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جس کے اثرات عالمی معیشت، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنا صبر کھو رہا ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی مذاکرات اور ممکنہ جنگ دونوں کیلئے تیار رہنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہیں جس سے دنیا بھر میں معاشی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔