استعمال شدہ درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد مختلف معروف برانڈز کے کم از کم 62 ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
اس حوالے سے کراچی کسٹمز ویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ نے نیا حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پرانے ویلیوایشن نظام کو ختم کر کے رولنگ نمبر 2070 نافذ کیا گیا ہے۔
نئے حکم نامے کے مطابق درآمدی استعمال شدہ موبائل فونز کی ویلیوایشن اب کسٹمز ویلیو کی بنیاد پر کی جائے گی، جس کے نتیجے میں ان پر عائد ٹیکس کی شرح میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد درآمدی اشیا کی درست قیمت کا تعین اور ریونیو میں اضافہ یقینی بنانا ہے۔
دستاویز کے مطابق تمام درآمد کنندگان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ موبائل فون کی ایکٹیویشن سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کریں۔ مزید یہ کہ کوئی بھی استعمال شدہ موبائل فون اس وقت تک درآمد نہیں کیا جا سکے گا جب تک وہ کم از کم 6 ماہ قبل ایکٹیویٹ نہ کیا گیا ہو۔
اس شرط کا اطلاق تمام موبائل فونز پر یکساں طور پر ہوگا اور فون کی ظاہری یا تکنیکی حالت کو اس میں کوئی رعایت حاصل نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق نئے قواعد و ضوابط کے تحت موبائل فونز کی کیٹیگریز اور ان کی ویلیو کا ازسرنو تعین کیا گیا ہے، جس کے باعث درآمدی لاگت میں اضافہ ہوگا اور اس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر پڑے گا۔
موبائل ڈیلرز کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف کاروباری لاگت بڑھے گی بلکہ صارفین کے لیے بھی استعمال شدہ موبائل فونز کی خریداری مہنگی ہو جائے گی۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق حالیہ فیصلے کے بعد سستے اور درمیانی قیمت کے استعمال شدہ اسمارٹ فونز کی طلب متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ اسمگل شدہ موبائل فونز کی حوصلہ افزائی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں موبائل فونز کی درآمد پر مختلف نوعیت کے ٹیکسز اور ڈیوٹیز پہلے ہی عائد ہیں، جن میں ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات شامل ہیں۔
حالیہ برسوں میں حکومت نے مقامی اسمبلنگ انڈسٹری کے فروغ اور درآمدی بل میں کمی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل فونز کی رجسٹریشن کے لیے نظام بھی متعارف کرایا گیا تاکہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ ڈیوائسز کی روک تھام کی جا سکے۔
تاہم، استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد ایک متنازع معاملہ رہا ہے، کیونکہ یہ کم قیمت متبادل کے طور پر صارفین میں مقبول ہیں۔ نئے ٹیکس اقدامات کے بعد توقع ہے کہ مقامی سطح پر اسمبل ہونے والے موبائل فونز کی طلب میں اضافہ ہوگا، جبکہ درآمدی استعمال شدہ موبائلز کی مارکیٹ سکڑ سکتی ہے۔