بجلی کے بھاری بلوں کا نیا حل؟نئی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

بجلی کے بھاری بلوں کا نیا حل؟نئی ٹیکنالوجی سامنے آگئی

بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان پاکستانی صارفین کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں بجلی کے اخراجات کم کرنے کا ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتی ہے۔

اگرچہ گھروں میں سولر پینلز لگانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن ہر شخص کے لیے مکمل سولر سسٹم لگانا ممکن نہیں۔ اس کے لیے بڑی ابتدائی سرمایہ کاری، مناسب چھت، تنصیب کے اخراجات اور بعض اوقات بیٹری بیک اپ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے کرائے دار، فلیٹس میں رہنے والے افراد اور محدود بجٹ والے خاندان اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :میٹا کا بڑا اقدام، مصنوعی ذہانت سےجنگی ہیلمٹ تیار

اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئی قسم کی ہوم بیٹری تیار کی جا رہی ہے، جو سولر پینلز کے بغیر بھی بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

’’ونڈ فال بیٹری‘‘ نامی یہ نظام بجلی پیدا نہیں کرتا بلکہ اس وقت بجلی ذخیرہ کرتا ہے جب نرخ کم ہوتے ہیں، اور پھر اسی بجلی کو مہنگے اوقات میں استعمال کے لیے فراہم کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :انسٹاگرام پوسٹ نے نوجوان کی جان بچا لی، میٹا کا خودکار الرٹ سسٹم فعال

یہ ڈیوائس خاص طور پر فلیٹس اور کرائے کے گھروں میں رہنے والے افراد کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اسے عام پاور ساکٹ سے منسلک کیا جا سکتا ہے اور یہ گھر کے بجلی کے نظام کے ساتھ کام کرتی ہے۔ موبائل ایپ کے ذریعے صارف یہ کنٹرول کر سکتا ہے کہ بیٹری کب چارج ہو اور کب استعمال میں آئے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں بجلی کے بھاری بل عام صارفین کے لیے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، ایسی ٹیکنالوجی خاص طور پر ان افراد کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو سولر سسٹم نصب نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں :صارفین کا طویل انتظار ختم ، واٹس ایپ میں نیا زبردست فیچر شامل

اس بیٹری کا بنیادی تصور یہ ہے کہ یہ آف پیک اوقات میں سستی بجلی ذخیرہ کرتی ہے اور پھر اسے ان اوقات میں استعمال کرتی ہے جب بجلی مہنگی ہوتی ہے۔ اس طرح صارف اپنے بجلی کے استعمال کا کچھ حصہ مہنگے اوقات سے سستے اوقات میں منتقل کر سکتا ہے۔

تاہم یہ مکمل سولر سسٹم کا متبادل نہیں بلکہ بجلی کے اخراجات کو بہتر انداز میں منظم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں :میٹا کا بڑا اقدام، مصنوعی ذہانت سےجنگی ہیلمٹ تیار

ونڈ فال انرجی کے شریک بانی روب ہالی فیکس کے مطابق زیادہ تر ہوم انرجی اسٹوریج سسٹمز بڑے گھروں اور مالکان کے لیے بنائے گئے ہیں، جبکہ فلیٹس اور کرائے کے گھروں میں رہنے والے افراد کے لیے محدود آپشنز موجود ہیں۔ اسی ضرورت کو دیکھتے ہوئے چھوٹی اور آسانی سے استعمال ہونے والی بیٹری تیار کی گئی۔

اس بیٹری کا سائز تقریباً 54 سینٹی میٹر اونچا اور 48 سینٹی میٹر چوڑا ہے، جبکہ اس کا وزن 30 کلوگرام سے کم ہے۔ یہ وائی فائی سے منسلک ہو کر بجلی کے نرخوں کا جائزہ لیتی ہے اور خودکار طور پر چارج ہونے کا وقت منتخب کر سکتی ہے۔ اس میں یو ایس بی سی پورٹ بھی موجود ہے جس سے چھوٹے آلات چارج کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ایلون مسک کی ایک اور کامیابی، اسپیس ایکس نے ریکارڈ قائم کر دیا

کمپنی نے اس بیٹری کو عام گھریلو سامان جیسا ڈیزائن دینے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ گھر کے اندر رکھنے پر کسی تکنیکی مشین کے بجائے فرنیچر کا حصہ محسوس ہو۔

اگرچہ ایسی ٹیکنالوجی بجلی کے اخراجات کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، لیکن مختلف ممالک میں اس کے استعمال کے لیے حفاظتی قوانین اور ضوابط ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہیں۔ برطانیہ میں بھی پلگ ان انرجی اسٹوریج مصنوعات کے حوالے سے قواعد و ضوابط ابھی تشکیل کے مراحل میں ہیں۔

editor

Related Articles