آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آٹے کی مختلف اقسام کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، 100 کلو گرام آٹے کی بوری کی قیمت میں تقریباً 2200 روپے اضافہ ہوا ہے جبکہ 50 کلو تھیلے کی قیمت بھی 1100 روپے تک بڑھ گئی ہے ، اس اضافے کے بعد مارکیٹ میں آٹے کی مجموعی قیمتوں کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔
قیمتوں میں اس اچانک اضافے کے بعد شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی یہ بنیادی ضرورت اب ان کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے ، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے پہلے ہی گھریلو بجٹ کو متاثر کر رکھا تھا، جبکہ آٹے کی قیمت میں اضافہ صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے، کئی خاندانوں کے لیے بچوں کی روٹی کا بندوبست کرنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی قدم اٹھائے جائیں تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور بنیادی خوراک کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔