قابلِ اعتماد اتحادی؟ اسرائیل میں بھارتی شہری نظرانداز، پناہ گاہوں میں پالتو جانور ترجیح

قابلِ اعتماد اتحادی؟ اسرائیل میں بھارتی شہری نظرانداز، پناہ گاہوں میں پالتو جانور ترجیح

بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے دفاعی اور سفارتی تعلقات کو دنیا بھر میں ایک “قابلِ اعتماد اتحاد” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اربوں ڈالر کے اسلحہ معاہدوں، مشترکہ فوجی مشقوں، اور انٹیلیجنس تعاون کے باوجود، حالیہ اسرائیلی حملوں کے دوران بھارتی شہریوں کو بم شیلٹرز میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جبکہ انہی پناہ گاہوں میں پالتو جانوروں کو جگہ دی گئی۔ جس کے بعد یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شدید بحران کے وقت “قابلِ اعتماد اتحادیوں” کوپناہ سے محروم کیوں رکھا گیا؟

بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی دفاعی شراکت داری عالمی سطح پر تنقید کی زد میں ہے اور بہت سے ماہرین اس فوجی قربت کو علاقائی اور عالمی امن کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

حالیہ رپورٹس کے مطابق، یہ اتحاد صرف اسلحے کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ جدید شعبوں جیسے کہ سائبر وارفیئر، انٹیلیجنس شیئرنگ، نگرانی، اور مشترکہ فوجی مشقوں تک پھیل چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بڑھتا ہوا تعاون خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور عالمی سلامتی پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مودی سرکار کے ماتھے پر ناکامی کا ایک اور داغ لگ گیا، من گھڑت جنگی کارنا مےعالمی سطح پر مسترد

گزشتہ دس برسوں میں بھارت نے اسرائیل سے تقریباً 2.9 ارب ڈالر کی دفاعی ٹیکنالوجی خریدی ہے اور ان خریداریوں میں جدید ریڈار سسٹمز، بغیر پائلٹ طیارے (ڈرونز)، نگرانی کا سامان، درست نشانہ لگانے والے ہتھیار، اور میزائل ڈیفنس سسٹمز شامل ہیں۔

بھارت نے ہیروں ڈرون، تاوور رائفلز، اور اسپائس 2000 گائیڈنس کٹس اسرائیل سے خریدے ہیں ، یہ تمام سسٹمز اب بھارت کی فوجی کارروائیوں میں مکمل طور پر شامل ہو چکے ہیں۔

اتحاد تو مضبوط ہورہا ہے تاہم بھارت میں دائیں بازو کے گروپوں کی سرگرمیوں نے مزید تشویش کو جنم دیا ہے، ایک سابقہ جلسے کے دوران، ہندو انتہا پسندوں کو اسرائیل کی حمایت میں اشتعال انگیز نعرے لگاتے دیکھا گیا، جیسے ” جو حماس کا یار ہے، وہ ہمارا غدار ہے، اسرائیل ہم تمہارے ساتھ ہیں!”

یہ اشتعال انگیز بیانیہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی تعلقات کی مضبوطی پورے خطے میں خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی ہے۔

بھارت کی اسرائیل نوازی اور مضبوط اتحاد کے باوجود متعدد اسرائیلی شہری بھارتیوں کو وہ عزت نہیں دیتے جو ایک “قابل اعتماد شراکت دار” کا حق ہے۔

جس کی بڑی مثال حالیہ ایرانی حملوں کے دوران رہی جہاں  بھارتیوں کو اسرائیلی بم شیلٹرز میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اس کے برعکس انہوں نے اپنے پالتو جانوروں کو بنکرز میں لے جانے پر ترجیح دی ۔

یہ بھی پڑھیں :مودی حکومت کے دوران سوئس بینکوں میں بھارتی کالے دھن میں ہوشربا اضافہ

بحرانی صورتحال میں بھارتیوں کو شیلٹرز کے باہر چھوڑ کر اندر موجود لوگ خوشی خوشی مسکراتے دکھائی دیے، گویا انہیں دوسروں کو باہر بند کرنے میں کوئی افسوس نہ ہو۔

اس ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت کی اسرائیل کے لیے غیر مشروط حمایت کا انجام آخر کیا نکل رہا ہے؟ ۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *