بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 2000 میگاواٹ مائننگ اور بٹ کوائن ریزرو کے قیام کا اہم اعلان کیا۔
دی پرنٹ نے اعتراف کیا کہ پاکستان نے بڑا قدم اٹھایا، امریکہ کے بعد ”بٹ کوائن ریزرو“ قائم کر کے ڈیجیٹل دنیا میں بھارت پر سبقت حاصل کی، پاکستان نے بھارت کی کرپٹو حکمت عملی کی ناکامیوں کو موثر سفارتی پالیسی کے طور پر استعمال کیا۔ ناکام کرپٹو پالیسی کے باعث بھارت کو60 بلین روپے ٹیکس کا نقصان پہنچا۔
دی پرنٹ نے کہا کہ کرپٹو پر سخت پابندیوں کے باعث بھارتی سٹارٹ اپس اور ماہرین ترقی یافتہ ممالک کا رُخ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ معروف امریکی ماہر بٹ کوائن ”مائیکل سیلر“ نے بھی پاکستان کی موثر حکمت عملی کی کھل کر تائید کی، اور بٹ کوائن ریزرو بنانے میں مدد کی پیشکش بھی کی۔
بھارتی اخبار نے مزید اعتراف کرتے ہوئے کہا لکہ کرپٹو حکمت عملی کو مزید موثر بنانے کے لیے بائننس کے شریک بانی “چانگ پینگ ژاؤ “ پاکستان کرپٹو کونسل کے اسٹریٹجک مشیر مقرر ہوئے۔ پاکستان نے کرپٹو ڈپلومیسی میں بڑا قدم اٹھایا۔ بلال بن ثاقب کی واشنگٹن میں سینیٹرز سے ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ بھارت عالمی مکالمے سے باہر نظر آیا۔
دی پرنٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے بھارتی ناکام کرپٹو پالیسی کے مقابلے میں کامیاب فریم ورک دینے کا اعلان کیا اور پاکستان کی کامیاب کرپٹو حکمت عملی سفارتی، معاشی اور تکنیکی محاذ پر جیت کی علامت بن گئی۔