انسپکٹر جنرل پولیس نے ادارے کے سینئر افسروں سے متعلق بڑا فیصلہ لے لیا

انسپکٹر جنرل پولیس نے ادارے کے سینئر افسروں سے متعلق بڑا فیصلہ لے لیا

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس عبدالکریم نے پولیس افسران کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے اور انتظامی امور میں بہتری کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے بھر میں 6 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (ڈی ایس پیز) کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف اضلاع اور یونٹس میں تعینات افسران کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ پولیسنگ کے نظام کو مزید فعال اور عوامی خدمت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔

نوٹیفکیشن کے تحت طارق محمود کو ڈی ایس پی پٹرولنگ پولیس سیالکوٹ تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ خداداد تارڑ کو ڈی ایس پی پٹرولنگ پولیس شیخوپورہ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

اسی طرح ایس ڈی پی او صدر فیصل آباد خدا بخش کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں ایس ڈی پی او ڈسکہ، ضلع سیالکوٹ تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ان کی تعیناتی سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال اور پولیس کی انتظامی کارکردگی مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے گیس صارفین کو بڑی خوشخبری سنادی

نوٹیفکیشن میں محمود اویس قرنی کو ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر پٹرولنگ پولیس لاہور تعینات کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے جہاں وہ پٹرولنگ پولیس کے انتظامی اور آپریشنل امور کی نگرانی کریں گے۔

مزید برآں نعیم اقبال کو ڈی ایس پی سرکل کھاریاں (سراے عالمگیر)، ضلع گجرات تعینات کیا گیا ہے جبکہ ممتاز احمد کو ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر گجرات مقرر کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ تقرر و تبادلے محکمانہ ضروریات انتظامی تقاضوں اور مختلف اضلاع میں پولیسنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی تعیناتیوں سے متعلقہ اضلاع میں عوامی مسائل کے حل، جرائم کی روک تھام اور پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم کی جانب سے کیے گئے ان تبادلوں کو پولیس فورس میں انتظامی بہتری اور استعداد کار بڑھانے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق تمام افسران کو فوری طور پر اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب پولیس میں وقتاً فوقتاً انتظامی ضروریات کے تحت افسران کے تقرر و تبادلے کیے جاتے ہیں تاکہ فورس کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے اور عوام کو بہتر پولیس سروسز فراہم کی جا سکیں۔

editor

Related Articles