وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی نائب امریکی صدر جے ڈی وینس سے ملاقات، اسٹیووٹکوف بھی گلے لگ گئے

وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی نائب امریکی صدر جے ڈی وینس سے ملاقات، اسٹیووٹکوف بھی گلے لگ گئے

سوئٹزرلینڈ کے عالمی سطح پر مشہور برگنسٹاک ریزورٹ میں جاری امریکا ایران سفارتی مشن کے دوران ایک انتہائی غیر معمولی اور شاندار منظر نامہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی وفد کے سربراہ اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس سے ایک انتہائی اہم اور ہائی پروفائل ملاقات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا امن مذاکرات، وزیراعظم، فیلڈ مارشل بطور ثالث سوئٹرز لینڈ پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر شاندار استقبال

ملاقات کے آغاز پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انتہائی گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کو گلے لگایا اور دونوں رہنماؤں کے مابین خوشگوار جملوں کا تبادلہ اور رسمی گفتگو ہوئی۔ جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ پہنچنے پر پاکستانی وفد کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے خصوصی پروٹوکول

اس موقع پرایک شاندار روایتی منظر اس وقت سامنے آیا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے آگے بڑھ کر پاکستان کے عسکری سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ناصرف گلے لگایا بلکہ انتہائی احترام کے ساتھ ان کے کندھے بھی تھپتھپائے، جو پاکستان کی عسکری اور سفارتی قیادت پر امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ ترین اِعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف کی غیر معمولی موجودگی

اس موقع کا سب سے حیران کن اور جیو پولیٹیکل پہلو یہ ہے کہ اس ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہائی قابلِ اعتماد اور بااثر ترین قریبی معتمدین، یعنی ٹرمپ کے داماد اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر اور ممتاز امریکی کاروباری شخصیت و سفارت کار اسٹیو وٹکوف بھی موقع پر موجود تھے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے باری باری ان دونوں اہم امریکی شخصیات سے بھی تفصیلی ملاقات کی اور گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ ان دونوں بین الاقوامی مہروں کی میز پر موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ واشنگٹن اس امن عمل کو کس قدر سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور ٹرمپ انتظامیہ کا وژن

یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ کے برگنسٹاک ریزورٹ میں منعقد ہونے والے ان ‘تکنیکی سطح کے مذاکرات’ کا حصہ ہے، جن کا مقصد ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔

جیرڈ کشنر، جنہوں نے ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کے امن معاہدوں میں پسِ پردہ کلیدی کردار ادا کیا تھا، اور اسٹیو وٹکوف کی اس آفیشل میٹنگ میں موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ مذاکرات محض روایتی نہیں ہیں، بلکہ اس میں سفید فام محل (وائٹ ہاؤس) کی اعلیٰ ترین کاروباری اور سٹریٹجک سوچ شامل ہو چکی ہے، جس کی تائید پاکستان کا ہائبرڈ ماڈل کر رہا ہے۔

Related Articles