بحرین کی زیرِ صدارت خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور خطے کو درپیش خطرات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کے وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے سعودی وفد کی قیادت کی جبکہ دیگر خلیجی ممالک کے وزرائے داخلہ اور اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس کے دوران خلیجی ممالک کو درپیش داخلی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز، سرحدی نگرانی، انسدادِ دہشت گردی، سائبر سیکیورٹی، منظم جرائم اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ وزرائے داخلہ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں خلیجی ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اور مشترکہ حکمتِ عملی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
اجلاس میں خاص طور پر مشترکہ سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو تیز کرنے اور سرحدی نگرانی کے جدید نظام متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا۔ اس کے علاوہ رکن ممالک کے درمیان مشترکہ تربیتی مشقوں اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان براہِ راست رابطوں کو بڑھانے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکا کو عالمی عدالت میں گھسیٹ لیا، بڑا قانونی محاذ کھل گیا

