ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو کتنے ارب ڈالر سے ’ہاتھ دھونے پڑے‘ پڑے؟، سی این این کے ہوشربا انکشافات

ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کو کتنے ارب ڈالر سے ’ہاتھ دھونے پڑے‘ پڑے؟، سی این این کے ہوشربا انکشافات

امریکی ٹی وی چینل سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں جنگی اخراجات 40 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف ابتدائی کارروائیوں سے متعلق ہیں، جبکہ جنگ کے اصل اخراجات اس تخمینے سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔

حیرت انگیز طور پر اس بھاری رقم میں تباہ شدہ فوجی اڈوں کی مرمت اور جنگ کے دوران ضائع ہونے والے قیمتی فوجی ساز و سامان کی تبدیلی کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے، جس کا مطلب ہے کہ طویل تنازع کی صورت میں یہ بجٹ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کا مثبت کردار، وزیرِاعظم، فیلڈ مارشل کو بہت زیادہ کریڈٹ دینا چاہتا ہوں، جے ڈی وینس

دوسری جانب امریکی عسکری قیادت آج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف نئے فوجی آپشنز پر بریفنگ دے گی۔ میڈیا کے مطابق ’سینٹکام‘ (امریکی سینٹرل کمانڈ) کے تیار کردہ منصوبے صدر کے سامنے پیش کیے جائیں گے، جن میں ایران کے حساس جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل فورسز کے ممکنہ آپریشنز پر بھی غور کیا جائے گا۔

اس اہم اجلاس میں ایران کی جانب سے متوقع جوابی کارروائیوں اور خطے میں امریکی مفادات کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

امریکا ایران تنازع اور حالیہ کشیدگی

امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات 2026 کے آغاز سے ہی انتہائی نازک موڑ پر پہنچ چکے ہیں، صدر ٹرمپ کی واپسی کے بعد ایران پر ’میکسمم پریشر‘ پالیسی کا دوبارہ نفاذ کیا گیا ہے، جس کے تحت ایران کی بحری ناکہ بندی اور تیل کی برآمدات کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں۔

امریکا کو خدشہ ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ’اسپیشل فورسز آپریشن‘ جیسے خطرناک آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

جنگی بجٹ اور اسٹریٹجک خطرات

سی این این کی رپورٹ اور صدر ٹرمپ کو دی جانے والی بریفنگ چند اہم اسٹرٹیجک سوالات کو جنم دیتی ہے کہ 50 ارب ڈالر کا ابتدائی تخمینہ امریکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب اس میں انفراسٹرکچر کی بحالی شامل نہ ہو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکا ایک ’محدود حملے‘ کے بجائے ایک بڑی جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

اسپیشل فورسز کے ذریعے جوہری مواد کو محفوظ بنانے کا منصوبہ انتہائی پرخطر ہے۔ ایسی کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں تابکاری کے پھیلاؤ یا ایران کے شدید ردِعمل کا خطرہ موجود ہے، جو پورے مشرقِ وسطیٰ کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

امریکی عسکری قیادت کا ایران کی جوابی کارروائیوں پر غور کرنا ثابت کرتا ہے کہ تہران کے میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی کو واشنگٹن میں ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں ’جنگوں کے خاتمے‘ کا وعدہ کر کے آئے تھے، اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ وہ سینٹکام کے ان جارحانہ منصوبوں کی منظوری دیتے ہیں یا سفارت کاری کو ترجیح دیں گے۔

Related Articles