خیبرپختونخوا میں تاریخی مساجد اور مزارعات کی بحالی و نگہداشت کے لیے شہری علاقوں سے حاصل ہونے والے پراپرٹی ٹیکس میں سے 8 فیصد فنڈ مختص کیے گئے، مگر یہ فنڈز کہاں جا رہے ہیں؟ محکمہ خزانہ نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ محکمہ اوقاف کی بارہا درخواستوں اور رابطوں کے باوجود ٹال مٹول کا سلسلہ جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق ویسٹ پاکستان تاریخی مساجد و مزارعات فنڈ سیس آرڈیننس 1960 کے تحت شہری علاقوں سے جمع ہونے والے پراپرٹی ٹیکس کا 8 فیصد حصہ ان مذہبی مقامات کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ آرڈیننس صرف 30 ستمبر 1989 تک مؤثر تھا، مگر اس کے بعد بھی 8 فیصد کٹوتی بدستور جاری ہےلیکن سوال یہ ہے کہ یہ فنڈز اگر متعلقہ محکمہ کو نہیں دیا جارہا ہے تو پھر اربوں روپے جا کہاں رہے ہیں؟
محکمہ اوقاف کی جانب سے محکمہ خزانہ اور محکمہ ایکسائزٹیکسیشن اینڈ نارکاٹکس کنٹرول سے متعدد بار رابطے کیے گئے۔ محکمہ ایکسائز نے کٹوتی کی تصدیق کر دی ہے، لیکن محکمہ خزانہ کا مؤقف ہے کہ فنڈز کی فراہمی تب ہی ممکن ہے جب رولز میں ترمیم کی جائے۔ دوسری جانب محکمہ قانون نے رولز کی بجائے آرڈیننس میں ترمیم تجویز کر دی ہے، جو اب کابینہ میں زیر غور ہے۔
موجود دستاویزات کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس وقت 79 تاریخی مساجد اور 5 نوٹیفائیڈ مزارعات موجود ہیں، مگر دیگر کئی مزارعات کو دائرہ اختیار میں لینے میں محکمہ اوقاف کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے، کیونکہ ان کے چندہ باکسز کی نیلامی ہوتی ہے جس کی وجہ سے مزارعات کے منتظمین اس کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے ، ذرائع کے مطابق محکمہ اوقاف نے صوبے کے مشہور مزارعات جو ایک ضلع کوہاٹ میں ہے اور ایک ضلع نوشہرہ میں اس کا اختیار لینے کی کوشش کی لیکن وفاقی سطح پر انے والے سفارش کی وجہ سے محکمہ اوقاف کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
رابطہ کرنے پر وزیراوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور عدنان قادری نے کہا کہ تیس سال تک محکمہ کا حق بنتا تھا کہ وہ پیسے دئیے جاتے لیکن ابھی تک ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا ہے اور انہوں نے یہ معاملہ کابینہ میں اٹھایا ہے امید ہے کہ ان کے حق میں فیصلہ ہوگا جو اربوں روپے بنتےہیں اس کے ملنے کے بعد ترقیاتی سکیمیں شروع کریں گے ۔
اس بابت وزیر اعلی کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم اور سیکرٹری خزانہ سلطان اسلم ترین کا موقف جاننے کیلئے بھی انہیں پیغام بیجھے لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔