امریکا اور ایران کی جنگ کے دوران سعودی عرب اور لبنان کے درمیان تجارتی و سفارتی تعلقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے لبنان سے سعودی عرب کے لیے برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے نئے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب لبنانی صدر جوزف عون نے سعودی عرب سے گزشتہ پانچ برسوں سے عائد پابندی ختم کرنے کی باضابطہ درخواست کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد نے یہ مؤقف لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران واضح کیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق گفتگو میں محمد بن سلمان نے لبنان کے استحکام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب لبنانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تعاون جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے۔
ولی عہد نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ لبنان اپنی سرزمین کو کسی بھی برادر یا ہمسایہ ملک کے خلاف نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی اعتماد اور تعاون ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2021 میں لبنان سے پھلوں اور سبزیوں کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی جب یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ لبنان سے آنے والی کچھ کھیپوں کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی کوششیں کی گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر ہوئے تھے۔
حالیہ فیصلہ ریاض اور بیروت کے درمیان کئی سالوں سے جاری کشیدگی میں کمی اور سفارتی تعلقات کی بحالی کی ایک اہم علامت ہے اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو نہ صرف تجارتی روابط بحال ہوں گے
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کا یہ اقدام ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جو مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔