پاکستان میں تعلیم اور خدمت کے میدان میں بے مثال جدوجہد کرنے والے چترال سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن ہدایت اللہ نے ثابت کیا ہے کہ ایک فرد کی محنت اور خلوص کس طرح پورے معاشرے کو بدل سکتا ہے۔ وہ 1988 سے طلبا کی خدمت کر رہے ہیں اور ان کی کاؤشیں آج ہزاروں طلباکے لیے کامیابی کی راہیں کھول چکی ہیں۔
ہدایت اللہ نے الخدمت فاؤنڈیشن کے تعاون سے چترال کے طلبا کے لیے ایک ہاسٹل قائم کیا، جس کی بدولت طلبا سے قریبی رابطہ قائم ہوا اور ان کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں مدد ملی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’تعلیم کے علاوہ آگے جانے کا کوئی راستہ نہیں‘۔ اسی نظریے کے تحت انہوں نے کئی ایسے طالب علموں کی رہنمائی کی جنہیں تعلیم کے میدان میں مشکلات کا سامنا تھا۔ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے ہدایت اللہ نے بتایا کہ ایک طالب علم بار بار فیل ہو رہا تھا، لیکن انہوں نے اسے حوصلہ دیا اور یونیورسٹی میں داخلے کی یقین دہانی کرائی۔
یہی طالب علم بعد میں بی کام میں ٹاپ کر گیا اور پشاور میں داخلے کے لیے ہدایت اللہ نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کر کے اس کی فیس کا انتظام کیا۔ آج وہی طالب علم آئن اسٹائن انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز پشاور کا ڈائریکٹر ہے۔
ہدایت اللہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے ایک طالب علم سے آغاز کیا تھا، لیکن آج ہر سال 100 سے زیادہ طلبا کی مالی مدد کر رہے ہیں۔ ’ملک بھر کے مختلف تعلیمی ادارے چترال کے طلبا کو سپورٹ کر رہے ہیں اور ہر سال تقریباً 5 کروڑ روپے کی فیس معاف کی جاتی ہے۔
ان کا خواب ہے کہ وہ اپنے قائم کردہ ’روز‘ تعلیمی ادارے کو پورے پاکستان میں پھیلائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
ہدایت اللہ کا پیغام واضح ہے کہ ’ یہ ملک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں عطا ہوا ہے۔ اس کی تعمیر و ترقی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیم اور خدمت کے ذریعے ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا چاہیے‘۔
سماج کو بیدار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ مالی طور پر کمزور بچوں کی مدد کرنا پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ ہدایت اللہ جیسے افراد ہی اصل میں پاکستان کے وہ خاموش ہیروز ہیں جو علم اور خدمت کے ذریعے قوم کا مستقبل روشن کر رہے ہیں۔