امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق پیش کی گئی قرارداد سخت مقابلے کے بعد مسترد کر دی گئی۔ یہ قرارداد محض 1 ووٹ کے فرق سے ناکام ہوئی، جس نے امریکی ایوان میں موجود سیاسی تقسیم کو واضح کر دیا ہے۔
ووٹنگ کی تفصیلات اور ڈرامائی صورتحال
سینیٹ میں ہونے والی اس اہم ووٹنگ میں قرارداد کے حق میں 49 جبکہ مخالفت میں 50 ووٹ پڑے۔ قرارداد کی منظوری کے لیے سادہ اکثریت درکار تھی، تاہم ریپبلکن ارکان کی اکثریت نے صدر کے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کی مخالفت کی، جس کی وجہ سے یہ صرف ایک ووٹ کے فرق سے اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔
قرارداد کے محرک اور مقاصد
یہ قرارداد ریاست اوریگن سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جیف مرکلے نے پیش کی تھی۔ قرارداد کا بنیادی مقصد ’وائٹ ہاؤس‘ کو پابند کرنا تھا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی باضابطہ فوجی کارروائی یا جنگ شروع کرنے سے پہلے کانگریس سے باقاعدہ منظوری حاصل کرے۔
سینیٹر مرکلے کا مؤقف تھا کہ آئین کے تحت جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف عوامی نمائندوں (کانگریس) کے پاس ہونا چاہیے نہ کہ صرف صدر کے پاس ہونا چاہیے۔
امریکا ایران کشیدگی اور صدارتی اختیارات
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی تاریخ دہائیوں پر محیط ہے، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں اس میں اس وقت شدید اضافہ ہوا جب امریکا نے 2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور ایران پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں۔
جنوری 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد امریکا میں یہ بحث چھڑ گئی کہ کیا ایک صدر کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر کسی دوسری ریاست کے خلاف ایسی کارروائی کر سکتا ہے جس سے مکمل جنگ چھڑنے کا خطرہ ہو۔
قرارداد کی ناکامی کے معنی
اگرچہ یہ قرارداد ناکام ہو گئی، لیکن 49 ووٹوں کا حق میں آنا اس بات کی علامت ہے کہ امریکی سینیٹ کا ایک بڑا حصہ اب ’لامحدود صدارتی اختیارات‘ سے خوفزدہ ہے۔
ووٹنگ کے نتائج بتاتے ہیں کہ ریپبلکنز اب بھی قومی سلامتی کے معاملات میں صدر کو بااختیار رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس اسے جمہوریت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اس قرارداد کی ناکامی سے تہران کو یہ پیغام گیا ہے کہ امریکی صدر کے پاس اب بھی فوری فوجی فیصلے لینے کی طاقت موجود ہے، جو خطے میں سٹریٹجک دباؤ برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔
صرف ایک ووٹ سے شکست اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مستقبل میں اگر ریپبلکن ارکان میں سے چند ایک نے بھی پینترا بدلا تو صدر کے اختیارات کو قانونی طور پر لگام ڈالی جا سکتی ہے۔